حدیث نمبر: 425
اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاؤُوْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِیْ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ عَسُفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِاِنَاءٍ فِیْهِ شَرَابٌ، فَشَرِبَهٗ نَهَارًا لِیَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ اَفْطَرَ، حَتَّی دَخَلَ مَکَّةَ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ صَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی السَّفَرِ وَاَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ اَفْطَرَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا حتیٰ کہ عسفان پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اس میں مشروب تھا، پس آپ نے اسے دن کے وقت پیا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، پھر آپ نے (دوران سفر) روزہ نہ رکھا حتیٰ کہ مکہ میں داخل ہو گئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر روزہ بھی رکھا ہے اور روزہ نہیں بھی رکھا، پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 426
اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَةَ، عَنْ عَبْدِالْکَرِیْمِ الْجَزَرِیِّ، وَوَکِیْعٍ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَبْدِالْکَرِیْمِ الْجَزَریِّ عَنْ طَاؤُوْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا نَعِیْبُ عَلٰی مَنْ صَامَ فِی السَّفَرِ، وَلَا عَلٰی مَنْ اَفْطَرَ، زَادَ وَکِیْعٌ: قَدْ صَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی السَّفَرِ وَاَفْطَرَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: ہم سفر میں روزہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والے پر اعتراض نہیں کرتے تھے۔ وکیع رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا اور روزہ نہیں بھی رکھا۔