مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اگر آدمی داہنی طرف والے سے اجازت لے کر پہلے بائیں طرف والے کو دے جو عمر میں بڑا ہو۔
حدیث نمبر: 5620
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ ، فَقَالَ الْغُلَامُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا ، قَالَ : فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا ، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ ( خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے بیٹھے ہوئے ) تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے کہا کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں ان ( شیوخ ) کو ( پہلے ) دے دوں ۔ لڑکے نے کہا : اللہ کی قسم ، یا رسول اللہ ! آپ کے جھوٹے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں ، میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5620
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔