حدیث نمبر: 290
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: " جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ زَوْجِي فَقِيرٌ، وَإِنَّ بَنِي أَخٍ لِي أَيْتَامٌ فِي حِجْرِي، وَأَنَا مُنْفِقَةٌ عَلَيْهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ فَهَلْ لِي أَجْرٌ فِيمَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)) وَكَانَتْ صَنَاعَ الْيَدَيْنِ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا، تو عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقہ لے کر آئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ کے پاس مال کم ہے اور میرے یتیم بھتیجے ہیں تو اگر میں صدقہ سے ان پر خرچ کروں تو میری طرف سے کفایت کر جائے گا جبکہ میں ان پر فلاں فلاں مد میں سے خرچ کرتی ہوں، اور ہر حال میں (ان پر خرچ کرتی ہوں)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ راوی نے بیان کیا، وہ دستکار خاتون تھیں۔
حدیث نمبر: 291
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَنِي أُمِّ سَلَمَةَ فِي حِجْرِي، وَلَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ إِلَّا مَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكِيهِمْ كَذَا وَكَذَا أَفَلِي أَجْرٌ إِنْ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ، .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ کے بچے میری پرورش (کفالت) میں ہیں، کیا میرے لیے کفایت کرتا ہے کہ میں صدقہ میں سے ان پر خرچ کروں، اور میں ان پر خرچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 292
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ قَالَتْ: كُنْتُ جَمَعْتُ مُويلَا لِي فَقُلْتُ لَأَضَعَنَّهُ فِي أَزْكَى مَوْضِعٍ عِنْدِي، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لَوْ تَصَدَّقْتُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي بَعْضِ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَبْعَثُهَا، أَوْ أَشْتَرِي بِهِ نَسَمَةً مُسْلِمَةً فَأَعْتِقُهَا، أَوْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى الْمَسَاكِينِ، أَوْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى زَوْجٍ مَجْهُودٍ وَبَنِي أَخٍ يَتَامَى فِي حِجْرِي، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا، عَنْ ذَلِكَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ: ((مَنْ هَذِهِ؟)) قَالَتِ امْرَأَةُ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ. قَالَ: ((فَمَا جَاءَ بِهَا)) فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ لَهُ ذَلِكَ. فَقَالَ: لِتَرُدُّهُ عَلَى زَوْجِهَا الْمَجْهُودِ وَبَنِي أَخِيهَا الْيَتَامَى يَكُنْ لَهَا أَجْرُهَا مَرَّتَيْنِ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر
زینب ثقفیہ نے بیان کیا: میں اپنا مال جمع کیا کرتی تھی، تو میں نے کہا: میں اسے اپنے ہاں کسی بہترین جگہ پر رکھوں گی، میں نے اپنے دل میں کہا: اگر میں اسے اللہ کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی لشکر میں جسے آپ بھیجیں گے خرچ کر دوں، یا کسی مسلمان لونڈی کو خرید کر آزاد کر دوں یا اسے مسکینوں پر صدقہ کر دوں یا قلیل مال والے شوہر پر صدقہ کر دوں یا اپنی زیر کفالت یتیم بھتیجوں پر صدقہ کر دوں گی، پس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تاکہ اس کے متعلق ان سے دریافت کروں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو فرمایا: ”عائشہ! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ابن ام عبد کی اہلیہ ہیں، فرمایا: ”وہ کس لیے آئی ہیں؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس کا تذکرہ کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے اپنے قلیل مال والے شوہر اور اپنے یتیم بھتیجوں پر خرچ کرے، اس کے لیے دوگنا اجر ہو گا۔“
حدیث نمبر: 293
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ صَنَاعَ الْيَدَيْنِ تَصْنَعُ الشَّيْءَ ثُمَّ تَبِيعُهُ، وَلَمْ يَكُنْ لِعَبْدِ اللَّهِ مَالٌ وَلَا لِوَلَدِهِ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: سَتَعْلَمُونَ أَنْ أَتَصَدَّقَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ أَجْرٌ فِيمَا تُنْفِقِينَ أَنْ تَفْعَلِيَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَّتْ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: ((أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَلَكِ أَجْرٌ فِيمَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
عروہ رحمہ اللہ نے بیان کیا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہا کی زوجہ ہنر مند تھیں، وہ چیز تیار کرتیں اور پھر اسے فروخت کرتی تھیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے پاس مال نہیں تھا، ان کی اہلیہ نے انہیں کہا: تم نے صدقہ کرنے سے میری توجہ ہٹا دی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس (ہم پر خرچ کرنے) میں تمہارے لیے اجر نہ ہو تو پھر مجھے یہ پسند نہیں کہ تم یہ کرو، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو پورا واقعہ بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان پر جو خرچ کرتی ہو، اس کا تمہیں اجر ملے گا، پس ان پر خرچ کرو۔“
حدیث نمبر: 294
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ زَيْنَبَ امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ، فَقَالَ: ((الصَّدَقَةُ عَلَى الْأَقَارِبِ تُضَاعَفُ عَلَى غَيْرِ الْأَقَارِبِ مَرَّتَيْنِ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کے متعلق مسئلہ دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتے داروں پر صدقہ کرنے کا غیر رشتے داروں پر صدقہ کرنے سے دوگنا اجر ملتا ہے۔“
حدیث نمبر: 295
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي حُلِيًّا، وَإِنَّ فِي حِجْرِي بَنِي أَخٍ أَيْتَامًا أَفَأَجْعَلُ زَكْوَةَ حُلِيِّ فِيهِمْ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابراہیم (نخعی رحمہ اللہ) نے بیان کیا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس زیور ہے اور میرے یتیم بھتیجے میری پرورش میں ہیں، تو کیا میں اپنے زیورات کی زکوٰۃ ان پر خرچ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 296
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ فِي حِجْرِي بَنِي أَخٍ لِي أَوْ بَنِي أَخٍ لِعَبْدِ اللَّهِ أَفَأَجْعَلُ زَكْوَةَ مَالِي فِيهِمْ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ الْمُفَضَّلُ: شَكَّ الْمُغِيرَةُ فِي بَنِي أَخِيهَا أَوْ بَنِي أَخِي عَبْدِ اللَّهِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابراہیم (نخعی رحمہ اللہ) نے بیان کیا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو عرض کیا: میرے یا عبداللہ (رضی اللہ عنہا) کے بھتیجے میری پرورش میں ہیں، کیا میں اپنے مال کی زکوٰۃ ان پر خرچ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 297
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّهُ مُخِفٌّ ذُو أَكْلٍ لِعَبْدِ اللَّهِ، أَفَيُجْزِئُنِي أَنْ أَجْعَلَ صَدَقَةَ مَالِي فِيهِمْ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابراہیم رحمہ اللہ نے بیان کیا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو عرض کیا: عبداللہ کے (بھتیجے میری پرورش میں ہیں) اگر میں اپنے مال کا صدقہ ان پر خرچ کروں تو وہ مجھ سے کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“