کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: دو آدمی کا جماعت کروانا
حدیث نمبر: 242
اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَیَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ، اَوْ اَحَدِهِمَاعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نمْتُ عِنْدَ خَالَتِیْ مَیْمُوْنَةَ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّیْلِ، فَتَسَوَّكَ، ثُمَّ اَتَی الْقِرَبَةَ فَتَوَضَّاءَ، ثُمَّ قُمْتُ اَنَا فَتَوَضَّأْتُ، قَالَ وَلَا اَدْرِیْ اَذَکَرَ السِّوَاكَ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ، فَاَخَذَنِیْ فَادَارَنِیْ حَتَّی جَعَلَنِیْ عَنْ یَمِیْنِهِ وَجَعَلَ یَمْسَحُ رَأْسِیْ، ثُمَّ صَلَّی اَرْبَعًا، ثُمَّ اَوْتَرَ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَی الْفَجْرِ، ثُمَّ خَرَجَ اِلٰی صَلَاةِ الْفَجْرِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سویا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے حصے میں بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی، پھر مشکیزے کے پاس آئے تو وضو فرمایا، پھر میں اٹھا اور میں نے وضو کیا، راوی نے بیان کیا: میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مسواک کا ذکر کیا، پھر میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے مجھے پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا اور آپ میرے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے، پھر آپ نے چار رکعتیں پڑھیں، پھر وتر کی نماز پڑھی، پھر آپ نے فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھیں، اور پھر نماز فجر کے لیے تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب التهجد و التطوع / حدیث: 242
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب العلم ، باب السمر فى العلم . مسلم ، كتاب صلاة المسافرين ، باب الدعاء فى صلاة الليل وقيامه ، رقم : 763 . سنن ابوداود ، رقم : 610 ، 1356 . سنن ترمذي ، رقم : 232 . سنن نسائي ، رقم : 1121 ، 806 . سنن ابن ماجه ، رقم : 973 .»