کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: باہمی محبت ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے
حدیث نمبر: 23
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا ، وَبِهَذَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ، وَلا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ، أَفَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا أَتَيْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟ " قَالُوا : وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَفْشُوا السَّلامَ بَيْنَكُمْ " .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! تم جنت میں نہیں جاؤ گے حتیٰ کہ تم ایمان لے آؤ، اور تم ایماندار نہیں بن سکتے حتیٰ کہ تم باہم محبت کرو، کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں جب تم وہ بجا لاؤ تو تمہاری باہم محبت پیدا ہو جائے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کیا کام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں سلام کو عام کرو۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 23
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب الايمان ، باب بيان انه لا يدخل الجنه الا المومنون الخ ، رقم : 54 ، سنن ابوداود ، كتاب الادب ، باب فى افشا السلام ، رقم : 5193 ، سنن ترمذي ، رقم : 2688 ، سنن ابن ماجه ، رقم : 68 ، مسند احمد : 391/2»