حدیث نمبر: 1
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عِيسَى ، نا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " ، فَقُلْنَا لَهُ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " . فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ قَوْلَهُ : يُقْبَضُ يَأْثِرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ ذَهَابَ الْعِلْمِ أَنْ يُنْزَعَ مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ ، وَلَكِنْ ذَهَابُ الْعِلْمِ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم قبض کر لیا جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج بہت ہو جائے گا۔ ہم نے آپ سے عرض کیا: ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل“، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”علم قبض کر لیا جائے گا۔“ سنا، تو فرمایا: ”علم کا چلے جانا، اس سے یہ مراد نہیں کہ اسے لوگوں کے سینوں سے نکال دیا جائے گا، بلکہ علم کا ختم ہو جانا علماء کے ختم ہو جانے کی وجہ سے ہے۔
حدیث نمبر: 2
أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " فَنَاءُ الْعُلَمَاءِ " .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
جعفر نے اس اسناد سے اسی کی مثل روایت کیا ہے، اور انہوں نے کہا: «فناء العلماء» (علماء کا ختم ہو جانا)۔