حدیث نمبر: 1130
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : سابق النبي صلى الله عليه وآله وسلم بالخيل التي قد ضمرت من الحفياء وكان أمدها ثنية الوداع وسابق بين الخيل التي لم تضمر من الثنية إلى مسجد بني زريق وكان ابن عمر فيمن سابق . متفق عليه وزاد البخاري قال سفيان : من الحفياء إلى ثنية الوداع خمسة أميال أو ستة ومن الثنية إلى مسجد بني زريق ميل .
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار شدہ گھوڑوں کی حفیاء سے ثنیہ الوداع تک دوڑ کرائی اور جو گھوڑے تیار نہیں تھے ان کو ثنیۃ سے لے کر بنی زریق کی مسجد تک دوڑایا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی مسابقت میں شریک تھے ۔ ( بخاری و مسلم ) اور بخاری میں اتنا اضافہ ہے کہ سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع کا فاصلہ پانچ یا چھ میل ہے اور ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک کا فاصلہ ایک میل ہے ۔
حدیث نمبر: 1131
وعنه رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم سبق بين الخيل وفضل القرح في الغاية . رواه أحمد وأبو داود وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے درمیان مسابقت کرائی اور نوجوان گھوڑوں کی حد میں فرق ملحوظ رکھا ۔ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا اور ابن حبان سے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 1132
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا سبق إلا في خف أو نصل أو حافر »رواه أحمد والثلاثة وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اونٹوں ، گھوڑوں اور تیر اندازی کے سوا اور کسی چیز میں مسابقت نہیں ۔ “ اسے احمد اور تینوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 1133
وعنه رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من أدخل فرسا بين فرسين وهو لا يأمن أن يسبق فلا بأس به وإن أمن فهو قمار » رواه أحمد و أبو داود ، وإسناده ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس شخص نے دو گھوڑوں کے درمیان تیسرا گھوڑا داخل کیا لیکن اس شخص کو یہ یقین نہ تھا کہ یہ گھوڑا آگے بڑھ جائے گا ۔ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر اس شخص کو یہ یقین تھا کہ یہ تیسرا گھوڑا بڑھ جائے گا تو یہ جوا ہو جائے گا ۔ “ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1134
وعن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وهو على المنبر يقرأ :«وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة » : ألا إن القوة الرمي ألا إن القوة الرمي ألا إن القوة الرمي » رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور وہ منبر پر کھڑے یہ ( آیت ) پڑھ رہے تھے «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة » تم جو کچھ اپنی قوت سے کافروں کے ( مقابلہ ) کے لئے تیار کر سکتے ہو تیار کرو اور گھوڑوں کے باندھنے سے ۔ اور ( فرماتے تھے ) خبردار ! قوت تیر اندازی میں ہے ۔ خبردار ! قوت تیر اندازی ہے ۔ خبردار ! قوت تیر اندازی ہے ۔ ( مسلم )