حدیث نمبر: 1123
عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أخذها يعني الجزية من مجوس هجر. رواه البخاري وله طريق في الموطأ فيها انقطاع.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور موطا میں اس حدیث کی ایک اور سند ہے جس میں انقطاع ہے ۔
حدیث نمبر: 1124
وعن عاصم بن عمر عن أنس وعثمان بن أبي سليمان رضي الله عنهم أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعث خالد بن الوليد إلى أكيدر دومة فأخذوه فأتوا به فحقن له دمه وصالحه على الجزية . رواه أبو داود.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´عاصم بن عمر رحمہ اللہ ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن ابی سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دومہ الجندل کے حکمران اکیدر کے پاس بھیجا ۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون نہ بہایا اور اس سے جزیہ پر مصالحت کر لی ۔ ( ابوداؤد )
حدیث نمبر: 1125
وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال : بعثني النبي صلى الله عليه وآله وسلم إلى اليمن فأمرني أن آخذ من كل حالم دينارا أو عدله معافريا . أخرجه الثلاثة وصححه ابن حبان والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ ’’ میں ہر بالغ سے ایک دینار بطور جزیہ وصول کروں یا پھر اس کے برابر معافری کپڑا لوں ۔ “ اس کی تخریج تینوں نے کی ہے ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1126
وعن عائذ بن عمرو المزني رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « الإسلام يعلو ولا يعلى » أخرجه الدارقطني.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عائذ بن عمرو المذنی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا ۔ “ ( سنن دارقطنی )
حدیث نمبر: 1127
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « لا تبدءوا اليهود والنصارى بالسلام وإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه » رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ یہود و نصاریٰ کو سلام پہلے نہ کیا کرو اور جب تمہارا ان میں سے کسی سے آمنا سامنا ہو جائے تو اسے راستہ کی تنگ جانب سے جانے پر مجبور کرو ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 1128
وعن المسور بن مخرمة ومروان رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم خرج عام الحديبية فذكر الحديث بطوله وفيه : « هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله ، سهيل بن عمرو على وضع الحرب عشر سنين يأمن فيها الناس ويكف بعضهم عن بعض » أخرجه أبو داود وأصله في البخاري ". وأخرج مسلم بعضه من حديث أنس وفيه : « أن من جاءنا منكم لم نرده عليكم ومن جاءكم منا رددتموه علينا » فقالوا : أتكتب هذا يا رسول الله ؟ قال : « نعم إنه من ذهب منا إليهم فأبعده الله ومن جاءنا منهم فسيجعل الله له فرجا ومخرجا».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہ دونوں سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال نکلے ۔ راوی نے لمبی حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ مذکور ہے کہ یہ وہ ( دستاویز ) ہے جس پر محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سہیل بن عمرو سے صلح کی ہے کہ دس سال جنگ بند رہے گی ۔ اس عرصہ میں لوگ امن سے رہیں گے اور ان میں سے ہر ایک ( جنگ سے ) اپنا ہاتھ روکے رکھے گا ۔ ابوداؤد اور اس کی اصل بخاری میں ہے اور مسلم نے اس حدیث کا کچھ حصہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں ہے کہ تم میں سے جو کوئی ہمارے پاس آئے گا اسے ہم واپس نہیں کریں گے اور ہمارا کوئی آدمی تمہارے پاس آ جائے تو تم اسے ہمارے پاس واپس لوٹا دو گے ۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ لکھ لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ’’ ہاں ! جو شخص ہم میں سے ان کے پاس چلا جائے گا اسے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیا اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے ضرور کشائش اور کوئی راستہ نکال دے گا ۔ “
حدیث نمبر: 1129
وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وإن ريحها ليوجد من مسيرة أربعين عاما » أخرجه البخاري .
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ` ” جس کسی نے عہدی کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا اور جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے پائی جاتی ہے ۔ “ ( بخاری )