حدیث نمبر: 964
عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: « لا تحرم المصة والمصتان » أخرجه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ایک دو دفعہ دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 965
وعنها رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «انظرن من إخوانكن فإنما الرضاعة من المجاعة » متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ضرور غور کر لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں کیونکہ رضاعت اس وقت معتبر ہے جب دودھ بھوک کے وقت پیا جائے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 966
وعنها رضي الله عنها قالت : جاءت سهلة بنت سهيل فقالت : يا رسول الله إن سالما مولى أبي حذيفة معنا في بيتنا وقد بلغ ما يبلغ الرجال ؟ فقال : «أرضعيه تحرمي عليه» رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` سھلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ! سالم ابوحذیفہ کا آزاد کردہ غلام ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ ہی رہتا ہے وہ مرد کی حد بلوغت کو پہنچ گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے اپنا دودھ پلا دو ، تو اس پر حرام ہو جائے گی ۔ “ ( مسلم ) ( نوٹ : یہ واقعہ ان کے ساتھ خاص ہے ۔ )
حدیث نمبر: 967
وعنها أن أفلح أخا أبي القعيس جاء يستأذن عليها بعد الحجاب قالت : فأبيت أن آذن له فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أخبرته بالذي صنعت فأمرني أن آذن له علي وقال : « إنه عمك » متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` ابوالقعیس کا بھائی افلح حجاب کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آنے کیلئے اجازت طلب کرتا رہا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا بیان ہے کہ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا جو میں نے اس کے ساتھ کیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ” میں ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت دے دیا کروں اور فرمایا کہ وہ تمہارا چچا ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 968
وعنها رضي الله عنها قالت : " كان فيما أنزل من القرآن : عشر رضعات معلومات يحرمن ثم نسخن بخمس معلومات فتوفي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وهن فيما يقرأ من القرآن " رواه مسلم
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` قرآن میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پینا جبکہ اس کے پینے کا یقین ہو جائے نکاح کو حرام کرتا ہے ۔ پھر یہ حکم منسوخ کر دیا گیا ۔ پانچ بار ( یعنی دودھ پینے کے حکم ) سے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی ، اس وقت پانچ کی تعداد قرآن میں پڑھی جاتی تھی ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 969
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أريد على ابنة حمزة فقال : « إنها لا تحل لي إنها ابنة أخي من الرضاعة ويحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب » متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آمادہ کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کر لیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ میرے لئے حلال نہیں اس لئے کہ وہ میرے رضائی بھائی کی بیٹی ہے ۔ جو عورت رشتہ و نسب سے حرام ہے وہی رضاعت سے بھی حرام ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 970
وعن أم سلمة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا يحرم من الرضاع إلا ما فتق الأمعاء وكان قبل الفطام ». رواه الترمذي وصححه هو والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دودھ پینے کو کوئی قسم حرام نہیں کرتی مگر وہ قسم جو انتڑیوں کو کھول دے اور دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو ۔ “ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 971
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : " لا رضاع إلا في الحولين " رواه الدارقطني وابن عدي مرفوعا وموقوفا ورجحا الموقوف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ` کوئی رضاعت معتبر نہیں سوائے اس رضاعت کے جو دو سال کے دوران میں ہو ۔ اسے دارقطنی اور ابن عدی نے مرفوع اور موقوف روایت کیا ہے مگر ترجیح دونوں نے موقوف کو دی ہے ۔
حدیث نمبر: 972
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا رضاع إلا ما أنشز العظم وأنبت اللحم » أخرجه أبو داود.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” رضاعت وہی معتبر ہے جو ہڈیوں کی نشوونما کرے اور گوشت پیدا کرے ۔ “ ( ابوداؤد )
حدیث نمبر: 973
وعن عقبة بن الحارث أنه تزوج أم يحيي بنت أبي إهاب فجاءت امرأة فقالت : قد أرضعتكما فسأل النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : « كيف وقد قيل ؟ » ففارقها عقبة فنكحت زوجا غيره . أخرجه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` انہوں نے ام یحییٰ بنت ابی اھاب رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ۔ عقبہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اب تم اسے کس طرح اپنے نکاح میں رکھ سکتے ہو جبکہ رضاعت کی اطلاع دے دی گئی ہے ۔ “ چنانچہ عقبہ نے اس عورت کو جدا کر دیا اور اس خاتون نے دوسرے آدمی سے نکاح کر لیا ۔ ( بخاری )
حدیث نمبر: 974
وعن زياد السهمي قال : " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تسترضع الحمقى " أخرجه أبو داود وهو مرسل وليست لزياد صحبة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا زیاد سہمی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احمق و کم عقل عورتوں کا دودھ پلانے سے منع فرمایا ہے ۔ اسے ابوداؤد نے نکالا ہے اور یہ مرسل ہے کیونکہ زیاد کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ۔