حدیث نمبر: 892
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة ، فقال:« ما هذا ؟ » قال : يا رسول الله! إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب. قال : « فبارك الله لك ، أولم ولو بشاة ». متفق عليه واللفظ لمسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے کپڑوں پر زرد رنگ لگا ہوا دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ کیا ہے ؟ “ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک عورت سے ایک گھٹلی کے مساوی سونا دے کر نکاح کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے ، ولیمہ ضرور کرو خواہ ایک بکری ہی ہو ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 893
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا دعي أحدكم إلى وليمة فليأتها». متفق عليه. ولمسلم : « إذا دعا أحدكم أخاه فليجب ، عرسا كان أو نحوه».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر مدعو کیا جائے تو اسے وہاں پہنچنا چاہیئے ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور مسلم کی روایت میں ہے جب تم میں سے کسی کو اس کا بھائی مدعو کرے تو اسے اس کی دعوت کو قبول کرنا چاہیئے خواہ وہ شادی ہو یا اسی طرح کی کوئی اور دعوت ۔
حدیث نمبر: 894
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « شر الطعام طعام الوليمة يمنعها من يأتيها ، ويدعى إليها من يأباها ، ومن لم يجب الدعوة فقد عصى الله ورسوله ». أخرجه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بدترین کھانا ولیمہ کا کھانا ہے کہ آنے والے ( مستحقین ) کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکاری ہو اسے مدعو کیا جاتا ہے اور جس نے دعوت ( ولیمہ ) کو قبول و منظور نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 895
وعنه رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا دعي أحدكم فليجب ، فإن كان صائما ، فليصل ، وإن كان مفطرا فليطعم ». أخرجه مسلم أيضا. وله من حديث جابر نحوه وقال : « إن شاء طعم وإن شاء ترك».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جب تم میں سے کسی کو دعوت ( ولیمہ ) پر مدعو کیا جائے تو اسے منظور کرنا چاہیئے ۔ اگر وہ روزے سے ہو تو دعا کرے اور اگر روزے سے نہ ہو تو پھر اسے کھانا کھانا چاہیئے ۔ ‘‘ ( مسلم ) اور مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” اگر وہ چاہے تو کھانا کھا لے اور اگر وہ چاہے تو چھوڑ دے ( یعنی نہ کھائے ) ۔ ‘‘
حدیث نمبر: 896
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « طعام الوليمة أول يوم حق ، وطعام يوم الثاني سنة ، وطعام يوم الثالث سمعة ، ومن سمع سمع الله به ». رواه الترمذي ، واستغربه ، ورجاله رجال الصحيح ، وله شاهد عن أنس عند ابن ماجه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ولیمہ کا کھانا پہلے روز حق ہے اور دوسرے روز سنت اور تیسرے روز کھانا تو نمود و نمائش ہے جو شخص ریاکاری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی تشہیر ( یا اسے سزا ) کرے گا ۔ ‘‘ اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے غریب بھی قرار دیا ہے ۔ حالانکہ اس حدیث کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور ابن ماجہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کی صورت میں اس کا ایک شاہد بھی موجود ہے ۔
حدیث نمبر: 897
وعن صفية بنت شيبة رضي الله عنها قالت : أولم النبي صلى الله عليه وآله وسلم على بعض نسائه بمدين من شعير. أخرجه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں کا ولیمہ دو مد جو سے کیا ۔ ( بخاری )
حدیث نمبر: 898
وعن أنس قال : أقام النبي صلى الله عليه وآله وسلم بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يبنى عليه بصفية فدعوت المسلمين إلى وليمته فما كان فيها من خبز ولا لحم وما كان فيها إلا أن أمر بالأنطاع فبسطت فألقي عليها التمر والأقط والسمن. متفق عليه ، واللفظ للبخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین روز تک قیام کیا ۔ صفیہ رضی اللہ عنہا سے اسی مقام پر شب باشی کی تو میں نے مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی دعوت دی ۔ بس اس دعوت میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت اس تقریب میں بس یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق چٹائیاں بچھائی گئیں اور ان پر کھجوریں ، پنیر اور مکھن چن دیا گیا ۔ ( بخاری و مسلم ) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 899
وعن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : إذا اجتمع داعيان فأجب أقربهما بابا فإن سبق أحدهما فأجب الذي سبق. رواه أبو داود وسنده ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب دو آدمیوں نے دعوت طَعام دی ہو تو جس کا دروازہ متصل و قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو اور ان میں سے جو پہلے دعوت دے اس کی دعوت قبول کر لو ۔ “ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اس کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 900
وعن أبي جحيفة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا آكل متكئا ». رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ میں ٹیک لگا کر نہیں کھایا کرتا ۔ “ ( بخاری )
حدیث نمبر: 901
وعن عمر بن أبي سلمة قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: « يا غلام! سم الله ، وكل بيمينك ، وكل مما يليك ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا ” اے بچے ! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 902
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أتي بقصعة من ثريد ، فقال : « كلوا من جوانبه ، ولا تأكلوا من وسطها ، فإن البركة تنزل في وسطها ». رواه الأربعة وهذا لفظ النسائي وسنده صحيح ¤¤ وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال : ما عاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم طعاما قط , كان إذا اشتهى شيئا أكله , وإن كرهه تركه متفق عليه .
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید سے بھرا ہوا ایک بڑا پیالہ پیش کیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ” پیالے کے کناروں سے کھاؤ ، درمیان سے نہ کھاؤ ، اس لیے کہ برکت کا نزول درمیان میں ہوتا ہے ۔ “ اسے چاروں نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ نسائی کے ہیں اور اس کی سند صحیح ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا ۔ جب کسی چیز کی خواہش ہوتی تو تناول فرما لیتے اور اگر ناپسند فرماتے تو چھوڑ دیتے ۔ ( بخاری و مسلم )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا ۔ جب کسی چیز کی خواہش ہوتی تو تناول فرما لیتے اور اگر ناپسند فرماتے تو چھوڑ دیتے ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 903
وعن جابر رضي الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « لا تأكلوا بالشمال فإن الشيطان يأكل بالشمال ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ ، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 904
وعن أبي قتادة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : «إذا شرب أحدكم فلا يتنفس في الإناء». متفق عليه ، ولأبي داود عن ابن عباس رضي الله عنهما نحوه وزاد : « وينفخ فيه ». وصححه الترمذي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جب کوئی مشروب پی رہا ہو تو برتن میں سانس نہ لے ۔ “ ( بخاری و مسلم ) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت ابوداؤد میں بھی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے ” اس میں پھونک نہ مارے ۔ “ اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔