حدیث نمبر: 855
عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « العرب بعضهم أكفاء بعض ، والموالي بعضهم أكفاء بعض ، إلا حائكا أو حجاما ». رواه الحاكم ، وفي إسناده راو لم يسم ، واستنكره أبو حاتم ، وله شاهد عند البزار عن معاذ بن جبل بسند منقطع.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” عرب ایک دوسرے کے لئے کفو ہیں اور موالی بھی ایک دوسرے کے لئے کفو ہیں ۔ بجز جولاہے اور حجام کے ۔ “ اس روایت کو حاکم نے روایت کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا اور ابوحاتم نے اسے منکر قرار دیا ہے اور اس کا شاہد بزار میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مگر اس کی سند بھی منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 856
وعن فاطمة بنت قيس رضي الله تعالى عنها : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لها :« انكحي أسامة ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مشورہ دیا کہ اسامہ ( رضی اللہ عنہ ) سے نکاح کر لو ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 857
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « يا بني بياضة انكحوا أبا هند وأنكحوا إليه » وكان حجاما. رواه أبو داود والحاكم بسند جيد.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے بنی بیاضہ ! ابوہند کا نکاح کر دو اور اس کی لڑکیوں سے نکاح کرو ۔ “ ابوہند حجام تھے ۔ اسے ابوداؤد اور حاکم نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 858
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : خيرت بريرة على زوجها حين عتقت. متفق عليه في حديث طويل. ولمسلم عنها رضي الله عنها : أن زوجها كان عبدا . وفي رواية عنها : كان حرا. والأول أثبت ، وصح عن ابن عباس رضي الله تعالى عنه عند البخاري : أنه كان عبدا.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو جب آزادی ملی تو اس وقت ان کو خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا ۔ ( بخاری و مسلم ) یہ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے ۔ اور مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند غلام تھا اور ان ہی سے ایک روایت میں ہے کہ وہ آزاد تھا ۔ پہلی روایت زیادہ پختہ ہے ۔ بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہا سے صحیح قول یہ ہے کہ وہ غلام تھا ۔
حدیث نمبر: 859
وعن الضحاك بن فيروز الديلمي ، عن أبيه رضي الله عنه تعالى قال : قلت: يا رسول الله! إني أسلمت وتحتي أختان ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « طلق أيتهما شئت». رواه أحمد والأربعة إلا النسائي ، وصححه ابن حبان والدارقطني والبيهقي ، وأعله البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ضحاک بن فیروز ویلمی نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ` میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہوں اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان دونوں میں سے جس ایک کو چاہو ، اسے طلاق دے دو ۔ “ اسے احمد اور چاروں نے نسائی کے علاوہ روایت کیا ہے ۔ ابن حبان ، دارقطنی اور بیہقی نے صحیح قرار دیا ہے ۔ مگر بخاری نے اسے معلول کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 860
وعن سالم عن أبيه رضي الله عنه : أن غيلان بن سلمة أسلم ، وله عشر نسوة ، فأسلمن معه ، فأمره النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يتخير منهن أربعا رواه أحمد والترمذي ، وصححه ابن حبان والحاكم ، وأعله البخاري وأبو زرعة وأبو حاتم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سالم نے اپنے باپ سے بیان کیا کہ` غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں ۔ ان سب نے غیلان کے ساتھ اسلام قبول کر لیا ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیلان سے فرمایا کہ ” ان میں سے چار کا انتخاب کر لو ۔ “ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ بخاری ، ابوزرعہ اور ابوحاتم نے اسے معلول کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 861
وعن ابن عباس قال : رد النبي صلى الله عليه وآله وسلم ابنته زينب على أبي العاص بن الربيع بعد ست سنين بالنكاح الأول ولم يحدث نكاحا. رواه أحمد والأربعة إلا النسائي ، وصححه أحمد والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کی طرف چھ سال بعد پہلے نکاح کے ساتھ واپس فرما دیا تھا ۔ نیا نکاح نہیں کیا تھا ۔ اسے احمد اور چاروں نے سوائے نسائی کے روایت کیا ہے اور احمد اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 862
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم رد ابنته زينب على أبي العاص بن الربيع بنكاح جديد . قال الترمذي حديث ابن عباس أجود إسنادا والعمل على حديث عمرو بن شعيب.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس جدید نکاح کر کے واپس بھیجا ۔ ترمذی نے کہا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث سند کے اعتبار سے عمدہ ترین ہے مگر عمل عمرو بن شعیب سے مروی حدیث پر ہے ۔
حدیث نمبر: 863
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : أسلمت امرأة فتزوجت فجاء زوجها فقال : يا رسول الله! إني كنت أسلمت ، وعلمت بإسلامي ، فانتزعها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من زوجها الآخر ، وردها إلى زوجها الأول. رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه ، وصححه ابن حبان والحاكم
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے اسلام قبول کیا ۔ پھر نکاح بھی کر لیا اتنے میں اس کا پہلا خاوند آ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے اسلام قبول کر لیا تھا میرے قبول اسلام کا اسے علم بھی تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( عورت ) کو اس ( دوسرے شوہر ) سے چھین کر پہلے خاوند کی طرف اسے لوٹا دیا ۔ اسے احمد ، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 864
وعن زيد بن كعب بن عجرة عن أبيه قال : تزوج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم العالية من بني غفار ، فلما دخلت عليه ، ووضعت ثيابها ، رأى بكشحها بياضا ، فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم : « البسي ثيابك والحقي بأهلك » وأمر لها بالصداق . رواه الحاكم وفي إسناده جميل بن زيد وهو مجهول واختلف عليه في شيخه اختلافا كثيرا.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا زید بن کعب بن عجرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غفار کی عالیہ نامی خاتون سے نکاح کیا ۔ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( خلوت میں ) داخل ہوئی اور اس نے اپنا لباس اتارا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پہلو میں پھلبہری ( برص ) کے داغ دیکھے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ’’ اپنے کپڑے پہن لے اور اپنے میکے چلی جا “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے حکم ارشاد فرمایا کہ ’’ مہر دے دیا جائے ۔ “ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں جمیل بن زید ایسا راوی ہے جو مجہول ہے اس کے استاد میں بہت اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 865
وعن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : أيما رجل تزوج امرأة ، فدخل بها ، فوجدها برصاء ، أو مجنونة ، أو مجذومة ، فلها الصداق بمسيسه إياها ، وهو له على من غره منها. أخرجه سعيد بن منصور ومالك وابن أبي شيبة ورجاله ثقات. وروى سعيد أيضا عن علي نحوه وزاد : أو بها قرن ، فزوجها بالخيار ، فإن مسها فلها المهر بما استحل من فرجها.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے ہمبستری کرے اور اسے معلوم ہو کہ وہ مرض برص میں مبتلا ہے یا دیوانی ہے یا کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہے تو خاوند کے اسے چھونے کی بنا پر حق مہر کی وہ مستحق ہے اور اس مہر کی رقم اس سے وصول کی جائے گی جس نے اسے دھوکہ دیا ۔ اسے سعید بن منصور ، مالک اور ابن ابی شیبہ نے نکالا ہے ۔ اس کے راوی ثقہ ہیں ۔ اور سعید نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اس عورت کو مرض قرن ہو تو اس کا شوہر خود مختار ہو گا ۔ اگر مرد نے اس عورت سے مباشرت کی ہو تو عورت کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے بدلہ میں مہر دینا ہو گا ۔
حدیث نمبر: 866
ومن طريق سعيد بن المسيب أيضا قال : قضى عمر في العنين أن يؤجل سنة. ورجاله ثقات.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´اور سعید بن مسیب کے ہی واسطہ سے کہ` سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے لئے ایک سال کی مدت کا فیصلہ کیا ۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں ۔