کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: جب کسی قوم کا کوئی اونٹ بدک جائے اور ان میں سے کوئی شخص خیر خواہی کی نیت سے اسے تیر سے نشانہ لگا کر مار ڈالے تو جائز ہے ؟
حدیث نمبر: Q5544
لِخَبَرِ رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث اس کی تائید کرتی ہے ۔
حدیث نمبر: 5544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنَ الْإِبِلِ ، قَالَ : فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ " ، هَكَذَا قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَكُونُ فِي الْمَغَازِي وَالْأَسْفَارِ فَنُرِيدُ أَنْ نَذْبَحَ فَلَا تَكُونُ مُدًى ، قَالَ : " أَرِنْ مَا نَهَرَ أَوْ أَنْهَرَ الدَّمَ ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ غَيْرَ السِّنِّ وَالظُّفُرِ ، فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ ، وَالظُّفُرَ مُدَى الْحَبَشَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عمر بن عبید الطنافسی نے خبر دی ، انہیں سعید بن مسروق نے ، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے ، ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا ، پھر ایک آدمی نے تیر سے اسے مارا اور اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا ۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں ، اس لیے ان میں سے جو تمہارے قابو سے باہر ہو جائیں ، ان کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو ۔ رافع نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم اکثر غزوات اور دوسرے سفروں میں رہتے ہیں اور جانور ذبح کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس چھریاں نہیں ہوتیں ۔ فرمایا کہ دیکھ لیا کرو جو آلہ خون بہا دے یا ( آپ نے بجائے «نهر» کے ) «أنهر» فرمایا اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہو کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبش والوں کی چھری ہے ۔