کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: نحر اور ذبح کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q5510
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ : " لَا ذَبْحَ وَلَا مَنْحَرَ ، إِلَّا فِي الْمَذْبَحِ وَالْمَنْحَرِ " ، قُلْتُ : أَيَجْزِي مَا يُذْبَحُ أَنْ أَنْحَرَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ذَكَرَ اللَّهُ ذَبْحَ الْبَقَرَةِ فَإِنْ ذَبَحْتَ شَيْئًا يُنْحَرُ جَازَ ، وَالنَّحْرُ أَحَبُّ إِلَيَّ وَالذَّبْحُ قَطْعُ الْأَوْدَاجِ ، قُلْتُ : فَيُخَلِّفُ الْأَوْدَاجَ حَتَّى يَقْطَعَ النِّخَاعَ ؟ قَالَ : لَا إِخَالُ ، وَأَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ نَهَى عَنِ النَّخْعِ ، يَقُولُ : يَقْطَعُ مَا دُونَ الْعَظْمِ ثُمَّ يَدَعُ حَتَّى تَمُوتَ ، وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً سورة البقرة آية 67 ، وَقَالَ : فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ سورة البقرة آية 71 وَقَالَ سَعِيدٌ : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " الذَّكَاةُ فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ " ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ، وابْنُ عَبَّاسٍ ، وأَنَسٌ : " إِذَا قَطَعَ الرَّأْسَ فَلَا بَأْسَ " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور جریج نے عطاء سے بیان کیا کہ ذبح اور نحر ، صرف ذبح کرنے کی جگہ یعنی ( حلق پر ) اور نحر کرنے کی جگہ یعنی ( سینہ کے اوپر کے حصہ ) میں ہی ہو سکتا ہے ۔ میں نے پوچھا کیا جن جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے ( حلق پر چھری پھیر کر ) انہیں نحر کرنا ( سینہ کے اوپر کے حصہ میں چھری مار کر ذبح کرنا ) کافی ہو گا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اللہ نے ( قرآن مجید میں ) گائے کو ذبح کرنے کا ذکر کیا ہے پس اگر تم کسی جانور کو ذبح کرو جسے نحر کیا جاتا ہے ( جیسے اونٹ ) تو جائز ہے لیکن میری رائے میں اسے نحر کرنا ہی بہتر ہے ذبح گردن کی رگوں کا کاٹنا ہے ۔ میں نے کہا کہ گردن کی رگیں کاٹتے ہوئے کیا حرام مغز بھی کاٹ دیا جائے گا ؟ انہوں نے کہا کہ میں اسے ضروری نہیں سمجھتا اور مجھے نافع نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حرام مغز کاٹنے سے منع کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا صرف گردن کی ہڈی تک ( رگوں کو ) کاٹا جائے گا اور چھوڑ دیا جائے گا تاکہ جانور مر جائے اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں ) فرمان «وإذ قال موسى لقومه إن الله يأمركم أن تذبحوا بقرة‏» ” اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ بلاشبہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو ۔ “ اور فرمایا «فذبحوها وما كادوا يفعلون‏» ” پھر انہوں نے ذبح کیا اور وہ کرنے والے نہیں تھے ۔ “ سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ذبح حلق میں بھی کیا جا سکتا ہے اور سینہ کے اوپر کے حصہ میں بھی ۔ ابن عمر ، ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر سر کٹ جائے گا تو کوئی حرج نہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: Q5510
حدیث نمبر: 5510
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ امْرَأَتِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : " نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میری بیوی فاطمہ بنت منذر نے خبر دی` ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: 5510
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5511
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، سَمِعَ عَبْدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : " ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے عبدہ سے سنا ، انہوں نے ہشام سے ، انہوں نے فاطمہ سے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا اس وقت ہم مدینہ میں تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: 5511
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5512
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ " . تَابَعَهُ وَكِيعٌ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ فِي النَّحْرِ .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑے کو نحر کیا ( اس کے سینے کے اوپر کے حصہ میں چھری مار کر ) پھر اسے کھایا ۔ اس کی متابعت وکیع اور ابن عیینہ نے ہشام سے «نحر‏.‏» کے ذکر کے ساتھ کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: 5512
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة