کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ جو پالتو جانور بدک جائے وہ جنگلی جانور کے حکم میں ہے۔
حدیث نمبر: Q5509
وَأَجَازَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَا أَعْجَزَكَ مِنَ الْبَهَائِمِ مِمَّا فِي يَدَيْكَ فَهُوَ كَالصَّيْدِ وَفِي بَعِيرٍ تَرَدَّى فِي بِئْرٍ مِنْ حَيْثُ قَدَرْتَ عَلَيْهِ فَذَكِّهِ ، وَرَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ ، وابْنُ عُمَرَ ، وَعَائِشَةُ " .
مولانا داود راز
ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے بھی اس کی اجازت دی ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جو جانور تمہارے قابو میں ہونے کے باوجود تمہیں عاجز کر دے ( اور ذبح نہ کرنے دے ) وہ بھی شکار ہی کے حکم میں ہے اور ( فرمایا کہ ) اونٹ اگر کنوئیں میں گر جائیں تو جس طرف سے ممکن ہو اسے ذبح کر لو ۔ علی ، ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کا یہی فتویٰ ہے ۔
حدیث نمبر: 5509
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى ، فَقَالَ : اعْجَلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ ، وَسَأُحَدِّثُكَ : أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " ، وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے اور ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کل ہمارا مقابلہ دشمن سے ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جلدی کر لو یا ( اس کے بجائے ) «أرن» کہا یعنی جلدی کر لو جو آلہ خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے اور اس کی وجہ بھی بتا دوں ۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۔ اور ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا تو ایک صاحب نے تیر سے مار کر گرا لیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں ، اس لیے اگر ان میں سے بھی کوئی تمہارے قابو سے باہر ہو جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔