کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جب کتا شکار میں سے خود کھا لے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: Q5483
وَقَوْلُهُ تَعَالَى : يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ سورة المائدة آية 4 . الصَّوَائِدُ وَالْكَوَاسِبُ اجْتَرَحُوا : اكْتَسَبُوا ، تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ إِلَى قَوْلِهِ : سَرِيعُ الْحِسَابِ سورة المائدة آية 4 ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَقَدْ أَفْسَدَهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ، وَاللَّهُ يَقُولُ : تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ سورة المائدة آية 4 فَتُضْرَبُ وَتُعَلَّمُ حَتَّى يَتْرُكَ ، وَكَرِهَهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ عَطَاءٌ : إِنْ شَرِبَ الدَّمَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ المائدہ میں ) فرمایا کہ ” آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز کھانی ہمارے لیے حلال کی گئی ہے ، آپ کہہ دیں کہ تم پر کل پاکیزہ جانور کھانے حلال ہیں اور تمہارے سدھائے ہوئے شکاری کتوں اور جانوروں کا شکار بھی جو شکار پر چھوڑ جاتے ہیں ۔ تم انہیں اس طریقہ پر سکھاتے ہو جس طرح تمہیں اللہ نے سکھایا ہے سو کھاؤ اس شکار کو جسے ( شکاری جانور یا کتا ) تمہارے لیے پکڑ کر رکھیں ۔ “ اللہ کے قول ” بیشک اللہ حساب جلد کر دیتا ہے “ تک ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر کتے نے شکار کا گوشت خود بھی کھا لیا تو اس نے شکار کو ناپاک کر دیا کیونکہ اس صورت میں اس نے خود اپنے لیے شکار کو روکا ہے اور اللہ تعالیٰ کا اسی سورۃ میں فرمانا کہ ” تم انہیں سکھاتے ہو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے “ اس لیے ایسے کتے کو پیٹا جائے گا اور سکھایا جاتا رہے گا ، یہاں تک کہ شکار میں سے وہ کھانے کی عادت چھوڑ دے ۔ ایسے شکار کو ابن عمر رضی اللہ عنہما مکروہ سمجھتے تھے اور عطاء نے کہا کہ اگر صرف شکار کا خون پی لیا ہو اور اس کا گوشت نہ کھایا ہو تو تم کھا سکتے ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: Q5483
حدیث نمبر: 5483
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ ؟ فَقَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ ، وَإِنْ قَتَلْنَ ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے بیان بن بشر نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنے سکھائے ہوئے کتوں کو شکار کے لیے چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیتے ہو تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ خواہ وہ شکار کو مار ہی ڈالیں ۔ البتہ اگر کتا شکار میں سے خود بھی کھا لے تو اس میں یہ اندیشہ ہے کہ اس نے یہ شکار خود اپنے لیے پکڑا تھا اور اگر دوسرے کتے بھی تمہارے کتوں کے سوا شکار میں شریک ہو جائیں تو نہ کھاؤ ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: 5483
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة