حدیث نمبر: 77
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا دخل الخلاء وضع خاتمه. أخرجه الأربعة . وهو معلول.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو انگشتری ( اپنی انگوٹھی اپنے دست مبارک سے ) اتار کر الگ رکھ دیتے تھے ۔
اسے ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور یہ روایت معلول ہے ۔
اسے ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور یہ روایت معلول ہے ۔
حدیث نمبر: 78
وعنه رضي الله عنه قال : كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم إذا دخل الخلاء قال : « اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث » . أخرجه السبعة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی روایت کرتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے بیت الخلاء میں داخلہ کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» اے اللہ ! میں آپ کی پناہ پکڑتا ہوں ، خبیث جنوں اور خبیث جنیوں سے ۔
اس کو ساتوں یعنی بخاری ، مسلم ، احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے ۔
اس کو ساتوں یعنی بخاری ، مسلم ، احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 79
وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يدخل الخلاء ، فأحمل أنا وغلام نحوي إداوة من ماء ، وعنزة فيستنجي بالماء. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور ایک اور میرا ہم عمر لڑکا پانی کا ایک برتن اور ایک چھوٹا سا نیزہ لے کر ہمراہ جاتے ۔ اس پانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استنجاء فرمایا کرتے ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 80
وعن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه قال : قال لي النبي صلى الله عليه وآله وسلم : « خذ الإداوة» ، فانطلق حتى توارى عني فقضى حاجته. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا ” پانی کا برتن ( ساتھ ) لے چلو ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لئے ( اتنی دور ) تشریف لے گئے کہ میری نظر سے اوجھل ہو گئے ۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 81
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « اتقوا اللعانين : الذي يتخلى في طريق الناس ، أو في ظلهم ». رواه مسلم. وزاد أبو داود عن معاذ رضي الله عنه : « والموارد » ولفظه : « اتقوا الملاعن الثلاثة : البراز في الموارد ، وقارعة الطريق والظل ». ولأحمد عن ابن عباس رضي الله عنهما: «أو نقع ماء». وفيهما ضعف. وأخرج الطبراني النهي عن قضاء الحاجة تحت الأشجار المثمرة وضفة النهر الجاري ، من حديث ابن عمر بسند ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دو لعنت کا سبب بننے والی جگہوں سے اجتناب کرو ، ایک لوگوں کے راستہ میں ۔ دوسرا ( ان کے بیٹھنے آرام کرنے کی ) سایہ دار جگہ میں قضائے حاجت کرنے سے ۔ “ ( مسلم )
اور ابوداؤد نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جو روایت کی ہے ، اس میں اس طرح ہے کہ ” لعنت کے تین اسباب سے اجتناب کرو ، گھاٹوں پر ، شاہراہ عام پر اور سایہ کے نیچے رفع حاجت کرنے سے ۔ “
اور امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے “ جہاں پانی جمع ہوتا ہو وہاں بھی رفع حاجت سے بچنا چاہیئے ۔ “ یہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں ۔
اور طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ “ پھل دار و سایہ دار درخت کے نیچے اور جاری و ساری نہر کے کنارے پر قضائے حاجت نہ کرے ۔ “ اس کی سند بھی ضعیف ہے ۔
اور ابوداؤد نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جو روایت کی ہے ، اس میں اس طرح ہے کہ ” لعنت کے تین اسباب سے اجتناب کرو ، گھاٹوں پر ، شاہراہ عام پر اور سایہ کے نیچے رفع حاجت کرنے سے ۔ “
اور امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے “ جہاں پانی جمع ہوتا ہو وہاں بھی رفع حاجت سے بچنا چاہیئے ۔ “ یہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں ۔
اور طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ “ پھل دار و سایہ دار درخت کے نیچے اور جاری و ساری نہر کے کنارے پر قضائے حاجت نہ کرے ۔ “ اس کی سند بھی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 82
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا تغوط الرجلان فليتوار كل واحد منهما عن صاحبه ، ولا يتحدثا ، فإن الله يمقت على ذلك » . رواه أحمد وصححه ابن السكن وابن القطان ، وهو معلول.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب دو آدمی قضائے حاجت کریں تو ان کو ایک دوسرے سے پردہ میں ہونا چاہیئے اور اس حالت میں ایک دوسرے سے باہم گفتگو بھی نہ کریں اس لئے کہ ایسے فعل پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں ۔ “
اس روایت کو احمد نے روایت کیا ہے اور ابن سکن اور ابن قطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ مگر یہ حدیث معلول ہے ۔
اس روایت کو احمد نے روایت کیا ہے اور ابن سکن اور ابن قطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ مگر یہ حدیث معلول ہے ۔
حدیث نمبر: 83
وعن أبي قتادة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: « لا يمسن أحدكم ذكره بيمينه وهو يبول ، ولا يتمسح من الخلاء بيمينه ، ولا يتنفس في الإناء ». متفق عليه ، واللفظ لمسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ” تم میں سے کوئی بھی پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضو مخصوص کو ہرگز نہ چھوئے اور قضائے حاجت کے بعد سیدھے ہاتھ سے استنجاء بھی نہ کرے ۔ نیز پانی پیتے وقت اس میں سانس بھی نہ لے “ ( بخاری و مسلم ) یہ الفاظ مسلم کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 84
وعن سلمان رضي الله عنه قال : لقد نهانا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : أن نستقبل القبلة بغائط أو بول ، أو أن نستنجي باليمين ، أوأن نستنجي بأقل من ثلاثة أحجار ، أو أن نستنجي برجيع أو عظم " . رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ’’ ہم قضائے حاجت اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہوں یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کریں یا تین ڈھیلوں سے کم سے استنجاء کریں یا گوبر ، لید اور ہڈی سے استنجاء کریں ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 85
وللسبعة من حديث أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه :« فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها ، ببول أو غائط ، ولكن شرقوا أو غربوا ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` ” قضائے حاجت اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رخ نہ بیٹھو اور نہ اس کی طرف پشت کرو ، بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب کرو ۔ “
اس کو ساتوں یعنی بخاری ، مسلم ، احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
اس کو ساتوں یعنی بخاری ، مسلم ، احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 86
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من أتى الغآئط فليستتر ». رواه أبو داود.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو قضائے حاجت کے لئے جائے اسے پردہ کر کے بیٹھنا چاہیئے ۔ “ ( ابوداؤد )
حدیث نمبر: 87
وعنها رضي الله عنها : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا خرج من الغائط قال : «غفرانك » . أخرجه الخمسة ، وصححه أبو حاتم والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر بیت الخلاء سے باہر آتے تو «غفرانک» فرماتے اے اللہ ! تیری بخشش اور پردہ پوشی مطلوب ہے
اس روایت کو پانچوں احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ، ابوحاتم اور حاکم دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اس روایت کو پانچوں احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ، ابوحاتم اور حاکم دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 88
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال : أتى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الغائط ، فأمرني أن آتيه بثلاثة أحجار ، فوجدت حجرين ، ولم أجد ثالثا ، فأتيته بروثة ، فأخذهما وألقى الروثة ، وقال: « إنها ركس ». أخرجه البخاري . وزاد أحمد والدارقطني :« ائتني بغيرها ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کو چلے تو مجھے حکم دیا کہ میں ان کیلئے تین پتھر لے آؤں ۔ مجھے دو پتھر تو مل گئے تیسرا نہ مل سکا ۔ میں ( مجبوراً ) گوبر کا ایک خشک ٹکڑا لے آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر تو لے لئے اور گوبر کے خشک ٹکڑے کو دور پھینک دیا اور فرمایا ” یہ تو بذات خود پلید ہے ۔ “ اسے بخاری نے روایت کیا ہے ۔ احمد اور دارقطنی نے اتنا اضافہ اور کیا ہے کہ ” اس کی بجائے اور لے آؤ ۔ “
حدیث نمبر: 89
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : إن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى أن يستنجى بعظم أو روث. وقال : « إنهما لا يطهران ». رواه الدارقطني وصححه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی اور گوبر کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے ، ساتھ ہی فرمایا کہ ” یہ دونوں پاک نہیں کر سکتے ۔ “ دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے اور صحیح بھی قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 90
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « استنزهوا من البول ، فإن عامة عذاب القبر منه » . رواه الدارقطني ، وللحاكم: « أكثر عذاب القبر من البول ». وهو صحيح الإسناد.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پیشاب ( کے چھینٹوں ) سے بچو ۔ اکثر عذاب قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے ۔ “ دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے اور حاکم کی روایت میں ہے اکثر عذاب قبر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اس کی سند صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 91
وعن سراقة بن مالك رضي الله عنه قال : علمنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الخلاء : أن نقعد على اليسرى وننصب اليمنى . رواه البيهقي بسند ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی تعلیم دیتے ہوئے ہمیں فرمایا کہ ” ہم بائیں پاؤں پر وزن دے کر بیٹھیں اور دائیں کو کھڑا رکھیں ( اس پر بوجھ کم ڈالیں ) ۔ “ اس کو بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 92
وعن عيسى بن يزداد (برداد »» عن أبيه رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا بال أحدكم فلينتر ذكره ثلاث مرات » . رواه ابن ماجه بسند ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عیسیٰ بن یزدار نے اپنے والد سے روایت بیان کی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جب کوئی پیشاب کرے تو عضو مخصوص کو تین مرتبہ جھاڑ لے ۔ “ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 93
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم سأل أهل قباء فقال : « إن الله يثني عليكم» فقالوا : إنا نتبع الحجارة الماء . رواه البزار بسند ضعيف . وأصله في أبي داود ، وصححه ابن خزيمة من حديث أبي هريرة رضي الله عنه ، بدون ذكر الحجارة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ( پاکیزگی کے بارے میں ) بڑی تعریف فرمائی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ڈھیلوں کے استعمال کے بعد مزید طہارت کے لیے پانی بھی استعمال کرتے ہیں ۔
اسے ضعیف سند کے ساتھ بزار نے روایت کیا ہے ۔ اس کی اصل ابوداؤد اور ترمذی میں موجود ہے ( اسی سلسلے میں ) ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے البتہ اس میں ڈھیلوں کا ذکر نہیں ہے ۔
اسے ضعیف سند کے ساتھ بزار نے روایت کیا ہے ۔ اس کی اصل ابوداؤد اور ترمذی میں موجود ہے ( اسی سلسلے میں ) ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے البتہ اس میں ڈھیلوں کا ذکر نہیں ہے ۔