حدیث نمبر: 22
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : سئل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الخمر : تتخذ خلا ؟ فقال : «لا ». أخرجه مسلم والترمذي ، وقال: حسن صحيح.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب سے سرکہ بنانے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ۔ ( مسلم و ترمذی ) اور ترمذی نے اسے حسن اور صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 23
وعنه رضي الله عنه قال : لما كان يوم خيبر أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أبا طلحة فنادى : أن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الأهلية ، فإنها رجس. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ` جس روز غزوہ خیبر تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ کو حکم دیا ( کہ لوگوں کو مطلع کر دیں ) انہوں نے باآواز بلند اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں تمہیں گھریلو گدھوں کے گوشت کو کھانے سے منع فرماتے ہیں ، کیونکہ وہ «رجس» ( ناپاک ) ہے ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 24
وعن عمرو بن خارجة رضي الله عنه قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بمنى وهو على راحلته ، ولعابها يسيل على كتفي .أخرجه أحمد والترمذي وصححه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر مقام منی میں ہمیں خطاب فرمایا اور اس اونٹنی کا لعاب دہن میرے کندھوں پر بہتا تھا ۔ ( احمد و ترمذی ) اور ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 25
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يغسل المني ثم يخرج إلى الصلاة في ذلك الثوب ، وأنا أنظر إلى أثر الغسل فيه . متفق عليه .ولمسلم : لقد كنت أفركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فركا ، فيصلي فيه. وفي لفظ له : لقد كنت أحكه يابسا بظفري من ثوبه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( کپڑے پر لگی ہوئی ) منی کو دھویا کرتے تھے ۔ پھر اسی کپڑے کو زیب تن فرما کر نماز پڑھ لیتے تھے اور میں دھونے کے نشان اور اثر کو صاف طور پر ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھتی تھی ۔ ( بخاری و مسلم )
اور مسلم کی روایت میں ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیا کرتی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کپڑے میں نماز ادا فرما لیتے تھے ۔ اور مسلم ہی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جب منی خشک ہو جاتی تو میں اپنے ناخن سے اسے کھرچ کر کپڑے سے اتار دیتی ۔
اور مسلم کی روایت میں ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیا کرتی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کپڑے میں نماز ادا فرما لیتے تھے ۔ اور مسلم ہی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جب منی خشک ہو جاتی تو میں اپنے ناخن سے اسے کھرچ کر کپڑے سے اتار دیتی ۔
حدیث نمبر: 26
وعن أبي السمح رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « يغسل من بول الجارية ، ويرش من بول الغلام ». أخرجه أبو داود والنسائي ، وصححه الحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوالسمح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” لڑکی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب سے کپڑے پر پانی کے چھینٹے مارے جائیں گے ۔ “ اسے ابوداؤد و نسائی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 27
وعن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في دم الحيض يصيب الثوب : « تحته ، ثم تقرصه بالماء ، ثم تنضحه ، ثم تصلي فيه ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کا خون جو کپڑے کو لگ جائے کے متعلق فرمایا ” پہلے اسے کھرچ ڈالو پھر پانی سے مل کر دھو لو پھر اس پر کھلا پانی بہاؤ پھر اس میں نماز پڑھ لو “ ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 28
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قالت خولة: يا رسول الله!. فإن لم يذهب الدم ؟ قال : « يكفيك الماء ولا يضرك أثره ». أخرجه الترمذي ، وسنده ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` خولہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا کہ اے اللہ کے رسول ! خون کا نشان ختم نہ ( اگر خون آلود کپڑے کو اچھی طرح مل کر دھونے کے باوجود نشان ) ہو تو پھر کیا ، کیا جائے ؟ ارشاد فرمایا ” بس تیرا اس پر اچھی طرح پانی بہانا کافی ہے ، اس کا نشان تیرے لئے ضرر رساں نہیں ۔ “
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے ۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے ۔