کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: جس نے ایک ہی دستر خوان پر کوئی چیز اٹھا کر اپنے دوسرے ساتھی کو دی یا اس کے سامنے رکھی۔
حدیث نمبر: Q5439
. قَالَ : وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ : لَا بَأْسَ أَنْ يُنَاوِلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَلَا يُنَاوِلُ مِنْ هَذِهِ الْمَائِدَةِ إِلَى مَائِدَةٍ أُخْرَى .
مولانا داود راز
´( امام بخاری رحمہ اللہ نے ) کہا کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ` اس میں کوئی حرج نہیں اگر ( ایک دستر خوان پر ) ایک دوسرے کی طرف دستر خوان کے کھانے بڑھائے لیکن یہ جائز نہیں کہ ( میزبان کی اجازت کے بغیر ) ایک دستر خوان سے دوسرے دستر خوان کی طرف کوئی چیز بڑھائی جائے ۔
حدیث نمبر: 5439
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ، قَالَ أَنَسٌ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الصَّحْفَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ " . وَقَالَ ثُمَامَةُ : عَنْ أَنَسٍ ، فَجَعَلْتُ أَجْمَعُ الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دعوت میں گیا ۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربہ ، جس میں کدو اور خشک کیا ہوا گوشت تھا ، پیش کیا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے ہیں ۔ اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا ۔ شمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو کے قتلے ( تلاش کر کر کے ) اکٹھے کرنے لگا ۔