کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: صاحب خانہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ مہمان کے ساتھ آپ بھی وہ کھائے۔
حدیث نمبر: 5435
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ النَّضْرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنْتُ غُلَامًا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُلَامٍ لَهُ خَيَّاطٍ فَأَتَاهُ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ وَعَلَيْهِ دُبَّاءٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أَجْمَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ الْغُلَامُ عَلَى عَمَلِهِ " ، قَالَ أَنَسٌ : لَا أَزَالُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مَا صَنَعَ .
مولانا داود راز
´مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ، انہوں نے نضر سے سنا ، انہیں ابن عون نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نوعمر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک درزی غلام کے پاس تشریف لے گئے ۔ وہ ایک پیالہ لایا جس میں کھانا تھا اور اوپر کدو کے قتلے تھے ۔ آپ کدو تلاش کرنے لگے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں نے یہ دیکھا تو کدو کے قتلے آپ کے سامنے جمع کر کے رکھنے لگا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنے کے بعد ) غلام اپنے کام میں لگ گیا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسی وقت سے میں کدو پسند کرنے لگا ، جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل دیکھا ۔