حدیث نمبر: 5426
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَسْقَى ، فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ ، وَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ ، كَأَنَّهُ يَقُولُ : لَمْ أَفْعَلْ هَذَا وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سیف بن ابی سلیمان نے ، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا ، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ` یہ لوگ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے ۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے ان کو پانی ( چاندی کے پیالے میں ) لا کر دیا ۔ جب اس نے پیالہ ان کے ہاتھ میں دیا تو انہوں نے پیالہ کو اس پر پھینک کر مارا اور کہا اگر میں نے اسے بارہا اس سے منع نہ کیا ہوتا ( کہ چاندی سونے کے برتن میں مجھے کچھ نہ دیا کرو ) آگے وہ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ تو میں اس سے یہ معاملہ نہ کرتا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ریشم و دیبا نہ پہنو اور نہ سونے چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ کیونکہ یہ چیزیں ان ( کفار کے لیے ) دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں ۔