کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اقامت کی حالت میں بھی تیمم کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q337
وَبِهِ قَالَ عَطَاءٌ : وَقَالَ الْحَسَنُ : فِي الْمَرِيضِ عِنْدَهُ الْمَاءُ وَلَا يَجِدُ مَنْ يُنَاوِلُهُ يَتَيَمَّمُ ، وَأَقْبَلَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ فَحَضَرَتِ الْعَصْرُ بِمَرْبَدِ النَّعَمِ فَصَلَّى ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِينَةَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ فَلَمْ يُعِدْ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ جب پانی نہ پائے اور نماز فوت ہونے کا خوف ہو ۔ عطاء بن ابی رباح کا یہی قول ہے اور امام حسن بصری نے کہا کہ اگر کسی بیمار کے نزدیک پانی ہو جسے وہ اٹھا نہ سکے اور کوئی ایسا شخص بھی وہاں نہ ہو جو اسے وہ پانی ( اٹھا کر ) دے سکے تو وہ تیمم کر لے ۔ اور عبداللہ بن عمر جرف کی اپنی زمین سے واپس آ رہے تھے کہ عصر کا وقت مقام مربدالنعم میں آ گیا ۔ آپ نے ( تیمم سے ) عصر کی نماز پڑھ لی اور مدینہ پہنچے تو سورج ابھی بلند تھا مگر آپ نے وہ نماز نہیں لوٹائی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التيمم / حدیث: Q337
حدیث نمبر: 337
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ : "أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے ، انہوں نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر بن عبداللہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ` میں اور عبداللہ بن یسار جو کہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے ، ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری ( صحابی ) کے پاس آئے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ” بئر جمل “ کی طرف سے تشریف لا رہے تھے ، راستے میں ایک شخص نے آپ کو سلام کیا ( یعنی خود اسی ابوجہیم نے ) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا ۔ پھر آپ دیوار کے قریب آئے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا پھر ان کے سلام کا جواب دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التيمم / حدیث: 337
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة