کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرنا حق ہے۔
حدیث نمبر: Q5173
وَمَنْ أَوْلَمَ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَنَحْوَهُ. وَلَمْ يُوَقِّتِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَلاَ يَوْمَيْنِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور جس نے سات دن تک دعوت ولیمہ کو جاری رکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف ایک یا دو دن تک کچھ معین نہیں فرمایا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: Q5173
حدیث نمبر: 5173
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مالک نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر بلایا جائے تو اسے آنا چاہئے ۔ معلوم ہوا کہ دعوت ولیمہ کا قبول کرنا ضروری ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5173
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5174
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَجِيبُوا الدَّاعِيَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن کثیر نے یبان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیدی کو چھڑاؤ ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو اور بیمار کی عیادت کرو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5174
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5175
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَشْعَثِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ، أَمَرَنَا : بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي ، وَنَهَانَا عَنْ : خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ وَالْقَسِّيَّةِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ " . تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ ،وَالشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أَشْعَثَ فِي إِفْشَاءِ السَّلَامِ .
مولانا داود راز
´ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالاحوص ( سلام بن سلیم ) نے بیان کیا ، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے ، ان سے معاویہ بن سوید نے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے منع فرمایا ۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی عیادت ، جنازہ کے پیچھے چلنے ، چھینکنے والے کے جواب دینے ( یرحمک اللہ یعنی اللہ تم پر رحم کرے کہنا ) قسم کو پورا کرنے ، مظلوم کی مدد کرنے ، سب کو سلام کرنے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے کا حکم دیا تھا اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے ، چاندی کے برتن استعمال کرنے ، ریشمی گدے ، قسیہ ( ریشمی کپڑا ) استبرق ( موٹے ریشم کا کپڑا ) اور دیباج ( ایک ریشمی کپڑا ) کے استعمال سے منع فرمایا تھا ۔ ابوعوانہ اور شیبانی نے اشعث کی روایت سے لفظ «إفشاء السلام‏.‏» میں ابوالاحوص کی متابعت کی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5175
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5176
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهِيَ الْعَرُوسُ ، قَالَ سَهْلٌ : تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ` ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی ، ان کی دلہن ام اسید سلامہ بنت وہب ضروری جو کام کاج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر کیا پلایا تھا ؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں ( صبح کو ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی پلایا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5176
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة