کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: دلہن کے پہننے کے لیے کپڑے اور زیور وغیرہ عاریتاً لینا۔
حدیث نمبر: 5164
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً ، فَهَلَكَتْ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ : جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا ، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجُعِلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةٌ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے عبید بن اسمعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` انہوں نے ( اپنی بہن ) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ لے لیا تھا ، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا ۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا ( اور پانی نہیں تھا ) اس لیے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی ۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ کے سامنے یہ شکوہ کیا ۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ ! اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے ۔ واللہ ! جب بھی آپ پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اسے دور کیا اور مزید برآں یہ کہ مسلمانوں کے لیے برکت اور بھلائی ہوئی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5164
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة