مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں۔
حدیث نمبر: Q5152
وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " لَا تَشْتَرِطْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کوئی عورت ( سوکن ) بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: Q5152
حدیث نمبر: 5152
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ هُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ان سے زکریا نے جو ابوزائدہ کے صاحبزادے ہیں ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنی کسی ( سوکن ) بہن کی طلاق کی شرط اس لیے لگائے تاکہ اس کے حصہ کا پیالہ بھی خود انڈیل لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے مقدر میں ہو گا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5152
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔