مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا۔
حدیث نمبر: 5108
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا " . وَقَالَ دَاوُدُ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو عاصم نے خبر دی ، انہیں شعبی نے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی عورت سے نکاح کرنے سے منع کیا تھا جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو ۔ اور داؤد بن عون نے شعبی سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5108
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5109
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5110
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةُ وَخَالَتُهَا " ، فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھ سے قبیصہ بن ذویب نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ( زہری نے کہا کہ ) ہم سمجھتے ہیں کہ عورت کے باپ کی خالہ بھی ( حرام ہونے میں ) اسی درجہ میں ہے کیونکہ ( اگلی حدیث دیکھیں ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5110
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5111
لِأَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ .
مولانا داود راز
´عروہ نے مجھ سے بیان کیا ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رضاعت سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام سمجھو جو خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5111
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔