حدیث نمبر: Q4975
وَالْعَرَبُ تُسَمِّي أَشْرَافَهَا الصَّمَدَ ، قَالَ أَبُو وَائِلٍ : هُوَ السَّيِّدُ الَّذِي انْتَهَى سُودَدُهُ .
مولانا داود راز
معنی اللہ بےنیاز ہے ۔ عرب لوگ سردار اور شریف کو «صمد.» کہتے ہیں ۔ ابووائل شقیق بن سلمہ نے کہا حد درجے سب سے بڑا سردار جو ہو اسے «صمد.» کہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4975
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ : كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ إِنِّي لَنْ أُعِيدَهُ كَمَا بَدَأْتُهُ ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ ، وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُؤًا أَحَدٌ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ { 3 } وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ { 4 } سورة الإخلاص آية 3-4" ، كُفُؤًا وَكَفِيئًا وَكِفَاءً وَاحِدٌ .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ ) ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا ۔ اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا ۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ ( ابن آدم ) کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا جیسا کہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ۔ اس کا گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ میں بےپرواہ ہوں ، میرے ہاں نہ کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد اور نہ کوئی میرے برابر کا ہے ۔ «كفؤا» اور «كفيئا» اور «كفاء» ہم معنی ہیں ۔