کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”وہ ہلاک ہوا نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا وہ کام آیا“۔
حدیث نمبر: 4972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَطْحَاءِ ، فَصَعِدَ إِلَى الْجَبَلِ ، فَنَادَى يَا صَبَاحَاهْ ، فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قُرَيْشٌ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ حَدَّثْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحُكُمْ أَوْ مُمَسِّيكُمْ أَكُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " ، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا تَبًّا لَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ سورة المسد آية 1 إِلَى آخِرِهَا .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` یعنی وہ ہلاک ہوا نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا وہ کام آیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف تشریف لے گئے اور پہاڑی پر چڑھ کر پکارا ۔ یا صباحاہ ! قریش اس آواز پر آپ کے پاس جمع ہو گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں بتاؤں کہ دشمن تم پر صبح کے وقت یا شام کے وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق نہیں کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ضرور آپ کی تصدیق کریں گے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو میں تمہیں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے سامنے آ رہا ہے ۔ ابولہب بولا تم تباہ ہو جاؤ ۔ کیا تم نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «تبت يدا أبي لهب» آخر تک ۔