کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ «لم يكن» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4959
مُنْفَكِّينَ : زَائِلِينَ قَيِّمَةٌ الْقَائِمَةُ دِينُ الْقَيِّمَةِ أَضَافَ الدِّينَ إِلَى الْمُؤَنَّثِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «منفكين‏» کے معنی چھوڑنے والے ۔ «قيمة‏» قائم اور مضبوط حالانکہ دین مذکر ہے مگر اس کو مؤنث یعنی «قيمة‏» کی طرف مضاف کیا ، دین کو ملت کے معنی میں لیا جو مؤنث ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4959
حدیث نمبر: 4959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة البينة آية 1 ، قَالَ : وَسَمَّانِي ، قَالَ : نَعَمْ ، فَبَكَى " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں سورۃ «لم يكن الذين كفروا‏» پڑھ کر سناؤں ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام بھی لیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، اس پر وہ رونے لگے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4959
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4960
حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " ، قَالَ أُبَيٌّ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ، قَالَ : " اللَّهُ سَمَّاكَ لِي " ، فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي ، قَالَ قَتَادَةُ : فَأُنْبِئْتُ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سورة البينة آية 1 .
مولانا داود راز
´ہم سے حسان بن حسان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ` اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن ( سورۃ لم یکن ) پڑھ کر سناؤں ۔ ابی بن کعب نے عرض کیا : کیا آپ سے اللہ تعالیٰ میرا نام بھی لیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام بھی مجھ سے لیا ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ یہ سن کر رونے لگے ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ «لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب‏» پڑھ کر سنائی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4960
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4961
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمُنَادِي ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ " ، قَالَ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَقَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن ابی داؤد ابو جعفر منادی نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن کی ( سورۃ لم یکن ) پڑھ کر سناؤں ۔ انہوں نے پوچھا کیا اللہ نے آپ سے میرا نام بھی لیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے تمام جہانوں کے پالنے والے کے ہاں میرا ذکر ہوا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4961
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة