کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ «القدر» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4959-2
يُقَالُ : الْمَطْلَعُ هُوَ الطُّلُوعُ وَالْمَطْلِعُ الْمَوْضِعُ الَّذِي يُطْلَعُ مِنْهُ ، أَنْزَلْنَاهُ : الْهَاءُ كِنَايَةٌ ، عَنِ الْقُرْآنِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَمِيعِ ، وَالْمُنْزِلُ هُوَ اللَّهُ ، وَالْعَرَبُ تُوَكِّدُ فِعْلَ الْوَاحِدِ ، فَتَجْعَلُهُ بِلَفْظِ الْجَمِيعِ لِيَكُونَ أَثْبَتَ وَأَوْكَدَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «مطلع» بہ فتحہ ( مصدر ہے ) طلوع کے معنوں میں اور «مطلع» بہ کسر لام ( جیسے کسائی نے پڑھا ہے ) وہ مقام جہاں سے سورج نکلے ۔ «انا أنزلناه‏» میں ضمیر قرآن کی طرف پھرتی ہے ( گو کہ قرآن کا ذکر اوپر نہیں آیا ہے مگر اس کی شان بڑھانے کے لیے اضمار قبل الذکر کیا ) «أنزلناه‏» صیغہ جمع متکلم کا ہے حالانکہ اتارنے والا ایک ہی ہے یعنی اللہ پاک مگر عربی میں واحد کو «جميع» اور اثبات کے لیے بہ صیغہ جمع لاتے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4959-2