کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ «ويل للمطففين» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4938
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : بَلْ رَانَ : ثَبْتُ الْخَطَايَا ، ثُوِّبَ : جُوزِيَ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : الْمُطَفِّفُ لَا يُوَفِّي غَيْرَهُ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور مجاہد نے کہا کہ «بل ران‏» کا معنی یہ ہے کہ گناہ ان کے دل پر جم گیا ۔ «ثوب‏» بدلہ دیئے گئے ۔ اوروں نے کہا «مطفف» وہ ہے جو پورا ماپ تول نہ دے ( دغا بازی کرے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4938
حدیث نمبر: 4938
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے تو کانوں کی لو تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4938
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة