کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ «إذا الشمس كورت» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4938-3
انْكَدَرَتْ : انْتَثَرَتْ ، وَقَالَ الْحَسَنُ : سُجِّرَتْ : ذَهَبَ مَاؤُهَا فَلَا يَبْقَى قَطْرَةٌ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الْمَسْجُورُ الْمَمْلُوءُ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : سُجِرَتْ أَفْضَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، فَصَارَتْ بَحْرًا وَاحِدًا وَالْخُنَّسُ تَخْنِسُ فِي مُجْرَاهَا تَرْجِعُ وَتَكْنِسُ تَسْتَتِرُ كَمَا تَكْنِسُ الظِّبَاءُ ، تَنَفَّسَ : ارْتَفَعَ النَّهَارُ وَالظَّنِينُ الْمُتَّهَمُ وَالضَّنِينُ يَضَنُّ بِهِ ، وَقَالَ عُمَرُ : النُّفُوسُ زُوِّجَتْ : يُزَوَّجُ نَظِيرَهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ قَرَأَ : احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ ، عَسْعَسَ : أَدْبَرَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ امام حسن بصری نے کہا «سجرت‏» کا معنی یہ ہے کہ سمندر سوکھ جائیں گے ، ان میں پانی کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا ۔ مجاہد نے کہا «مسجور» کا معنی ( جو سورۃ الطور میں ہے ) بھرا ہو اوروں نے کہا «سجرت‏» کا معنی یہ ہے کہ سمندر پھوٹ کر ایک دوسرے سے مل کر ایک سمندر بن جائیں گے ۔ «خنس» چلنے کے مقام میں ، پھر لوٹ کر آنے والے ۔ «كنس» ، «تكنس» سے نکلا ہے یعنی ہرن کی طرح چھپ چھپ جاتے ہیں ۔ «تنفس‏» دن چڑھ جائے ۔ «ظنين» ( ظاء معجمہ سے یہ بھی ایک قرآت ہے ) یعنی تہمت لگاتا ہے اور «ضنين» اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچانے میں بخیل نہیں ہے اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا «النفوس زوجت‏» یعنی ہر آدمی کا جوڑ لگا دیا جائے گا خواہ جنتی ہو یا دوزخی پھر یہ آیت پڑھی «احشروا الذين ظلموا وأزواجهم‏» ، «عسعس‏» جب رات پیٹھ پھیر لے یا جب رات کا اندھیرا آ پڑے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4938-3