کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ عبس کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4937
عَبَسَ وَتَوَلَّى : كَلَحَ وَأَعْرَضَ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : مُطَهَّرَةٍ : لَا يَمَسُّهَا إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ وَهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَهَذَا مِثْلُ قَوْلِهِ : فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا : جَعَلَ الْمَلَائِكَةَ وَالصُّحُفَ مُطَهَّرَةً لِأَنَّ الصُّحُفَ يَقَعُ عَلَيْهَا التَّطْهِيرُ ، فَجُعِلَ التَّطْهِيرُ لِمَنْ حَمَلَهَا أَيْضًا سَفَرَةٍ : الْمَلَائِكَةُ وَاحِدُهُمْ سَافِرٌ سَفَرْتُ أَصْلَحْتُ بَيْنَهُمْ وَجُعِلَتِ الْمَلَائِكَةُ إِذَا نَزَلَتْ بِوَحْيِ اللَّهِ وَتَأْدِيَتِهِ كَالسَّفِيرِ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ الْقَوْمِ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : تَصَدَّى : تَغَافَلَ عَنْهُ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : لَمَّا يَقْضِ لَا يَقْضِي أَحَدٌ مَا أُمِرَ بِهِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَرْهَقُهَا : تَغْشَاهَا شِدَّةٌ ، مُسْفِرَةٌ : مُشْرِقَةٌ ، بِأَيْدِي سَفَرَةٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَتَبَةٍ أَسْفَارًا : كُتُبًا ، تَلَهَّى : تَشَاغَلَ يُقَالُ وَاحِدُ الْأَسْفَارِ سِفْرٌ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «عبس‏» منہ بنایا ۔ «تولى» منہ پھیر لیا ۔ اوروں نے کہا «مطهرة‏» دوسری جگہ فرمایا «لا يمسها إلا المطهرون» ان کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں یعنی فرشتے تو محمول کی صفت حامل کی کر دی جیسے «فالمدبرات أمرا‏» ، «فالمدبرات» سے مراد سوار ہیں ( جو محمول ہیں ) «مجازا» ان کے حاملوں یعنی گھوڑوں کو «مدبرات» کہہ دیا ۔ «والصحف مطهرة» یہاں اصل میں «تطهير» کتابوں کی صفت ہے ان کے اٹھانے والوں یعنی فرشتوں کو بھی «مطهر» فرمایا ۔ «سفرة‏» فرشتے یہ «سافر» کی جمع ہے عرب لوگ کہتے ہیں «سفرت بين القوم» یعنی اس نے قوم کے لوگوں میں صلح کرا دی ، جو فرشتے اللہ کی وحی لے کر پیغمبروں کو پہنچاتے ہیں ان کو بھی «سفير» قرار دیا جو لوگوں میں ملاپ کراتا ہے ۔ بعضوں نے کہا «سفرة‏» کے معنی لکھنے والے اوروں نے کہا «تصدى‏» کے معنی غافل ہو جانا ہے ۔ مجاہد نے کہا «لما يقض‏ ما امره» کا معنی یہ ہے کہ آدمی کو جس بات کا حکم دیا گیا تھا وہ اس نے پورا پورا ادا نہیں کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «ترهقها‏ قترة» کا معنی یہ ہے کہ اس پر سختی برس رہی ہو گی ۔ «مسفرة‏» چمکتے ہوئے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «سفرة‏» کے معنی لکھنے والے سورۃ الجمعہ میں لفظ «أسفارا‏» اسی سے ہے یعنی کتابیں ۔ «تلهى‏» غافل ہوتا ہے کہتے ہیں «الأسفار» جو کتابوں کے معنی میں ہے ۔ «سفر‏.‏» بکسر سین کی جمع ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4937
حدیث نمبر: 4937
حدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ حَافِظٌ لَهُ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ القرآن وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے زرارہ بن اوفی سے سنا ، وہ سعد بن ہشام سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ بھی ہے ، مکرم اور نیک لکھنے والے ( فرشتوں ) جیسی ہے اور جو شخص قرآن مجید باربار پڑھتا ہے ۔ پھر بھی وہ اس کے لیے دشوار ہے تو اسے دوگنا ثواب ملے گا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4937
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة