کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ والنازعات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4936
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الْآيَةَ الْكُبْرَى : عَصَاهُ وَيَدُهُ ، يُقَالُ : النَّاخِرَةُ وَالنَّخِرَةُ سَوَاءٌ مِثْلُ الطَّامِعِ وَالطَّمِعِ وَالْبَاخِلِ وَالْبَخِيلِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : النَّخِرَةُ الْبَالِيَةُ وَالنَّاخِرَةُ الْعَظْمُ الْمُجَوَّفُ الَّذِي تَمُرُّ فِيهِ الرِّيحُ فَيَنْخَرُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْحَافِرَةِ : الَّتِي أَمْرُنَا الْأَوَّلُ إِلَى الْحَيَاةِ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : أَيَّانَ مُرْسَاهَا : مَتَى مُنْتَهَاهَا وَمُرْسَى السَّفِينَةِ حَيْثُ تَنْتَهِي .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا «الآية الكبرى‏» سے مراد موسیٰ علیہ السلام کی عصا اور ان کا ہاتھ ہے ۔ «عظاما ناخرة» اور «ناخرة» دونوں طرح سے پڑھا ہے جیسے «طامع» اور «طمع» اور «باخل» اور «بخيل» اور بعضوں نے کہا «نخرة» اور «ناخرة» میں فرق ہے ۔ «نخرة» کہتے ہیں گلی ہوئی ہڈی کو اور «ناخرة» کھوکھلی ہڈی جس کے اندر ہوا جائے تو آواز نکلے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «حافرة‏» ہماری وہ حالت جو دنیا کی ( زندگی ) میں ہے ۔ اوروں نے کہا «أيان مرساها‏» یعنی اس کی انتہا کہاں ہے یہ لفظ «مرسى السفينة» سے نکلا ہے ۔ یعنی جہاں کشتی آخر میں جا کر ٹھہرتی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4936