کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”وہ دن کہ جب صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ ہو کر آؤ گے، «أفواجا» کے معنی «زمرا» یعنی گروہ گروہ کے ہیں“۔
حدیث نمبر: 4935
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ ، قَالَ : أَرْبَعُونَ يَوْمًا ، قَالَ : أَبَيْتُ ، قَالَ : أَرْبَعُونَ شَهْرًا ، قَالَ : أَبَيْتُ ، قَالَ : أَرْبَعُونَ سَنَةً ، قَالَ : أَبَيْتُ ، قَالَ : ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ ، لَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس فاصلہ ہو گا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس دن مراد ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں پھر شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس مہینے مراد ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس سال مراد ہیں ؟ کہا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا ۔ جس کی وجہ سے تمام مردے جی اٹھیں گے جیسے سبزیاں پانی سے اگ آتی ہیں ۔ اس وقت انسان کا ہر حصہ گل چکا ہو گا ۔ سوا ریڑھ کی ہڈی کے اور اس سے قیامت کے دن تمام مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4935
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة