حدیث نمبر: Q4935
قَالَ مُجَاهِدٌ : لَا يَرْجُونَ حِسَابًا : لَا يَخَافُونَهُ ، لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا : لَا يُكَلِّمُونَهُ إِلَّا أنْ يَأْذَنَ لَهُمْ صَوَابًا حَقًّا فِي الدُّنْيَا وَعَمِلَ بِهِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَهَّاجًا : مُضِيئًا ، وَقَالَ غَيْرُهُ : غَسَّاقًا غَسَقَتْ عَيْنُهُ ، وَيَغْسِقُ الْجُرْحُ يَسِيلُ كَأَنَّ الْغَسَاقَ وَالْغَسِيقَ وَاحِدٌ ، عَطَاءً حِسَابًا : جَزَاءً كَافِيًا أَعْطَانِي مَا أَحْسَبَنِي أَيْ كَفَانِي .
مولانا داود راز
مجاہد نے کہا «لا يرجون حسابا» کا معنی یہ ہے کہ وہ اعمال کے ( حساب کتاب ) سے نہیں ڈرتے ۔ «لا يملكون منه خطابا» یعنی ڈر کے مارے اس سے بات نہ کر سکیں گے مگر جب ان کو بات کرنے کی اجازت ملے گی ۔ «صوابا» یعنی جس نے دنیا میں سچی بات کہی تھی اس پر عمل کیا تھا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «وهاجا» روشن ، چمکتا ہوا ۔ اوروں نے کہا «غساقا» ، «غسقت» ، «عيينه» سے نکلا ہے یعنی اس کی آنکھ تاریک ہو گئی ، اسی سے ہے ۔ «يغسق لجراح» یعنی زخم بہ رہا ہے «غساق» اور «غسيق» دونوں کا ایک ہی معنی ہے یعنی دوزخیوں کا خون پیپ ۔ «عطاء حسابا» پورا بدلہ عرب لوگ کہتے ہیں «أعطاني ما أحسبني.» یعنی مجھ کو اتنا دیا جو کافی ہو گیا ۔