کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر“۔
حدیث نمبر: 4920
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَقَالَ عَطَاءٌ : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، صَارَتِ الْأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي الْعَرَبِ بَعْدُ أَمَّا وَدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ ، وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ ، وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ ، ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجَوْفِ عِنْدَ سَبَإٍ ، وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ لِآلِ ذِي الْكَلَاعِ ، أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ ، فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ ، وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ، ان سے ابن جریج نے اور عطاء نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جو بت نوح علیہ السلام کی قوم میں پوجے جاتے تھے بعد میں وہی عرب میں پوجے جانے لگے ۔ ود دومۃ الجندل میں بنی کلب کا بت تھا ۔ سواع بنی ہذیل کا ۔ یغوث بنی مراد کا اور مراد کی شاخ بنی غطیف کا جو وادی اجوف میں قوم سبا کے پاس رہتے تھے یعوق بنی ہمدان کا بت تھا ۔ نسر حمیر کا بت تھا جو ذوالکلاع کی آل میں سے تھے ۔ یہ پانچوں نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک لوگوں کے نام تھے جب ان کی موت ہو گئی تو شیطان نے ان کے دل میں ڈالا کہ اپنی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھے تھے ان کے بت قائم کر لیں اور ان بتوں کے نام اپنے نیک لوگوں کے نام پر رکھ لیں چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اس وقت ان بتوں کی پوجا نہیں ہوتی تھی لیکن جب وہ لوگ بھی مر گئے جنہوں نے بت قائم کئے تھے اور علم لوگوں میں نہ رہا تو ان کی پوجا ہونے لگی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4920
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة