حدیث نمبر: Q4879
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْحُورُ : السُّودُ الْحَدَقِ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : مَقْصُورَاتٌ : مَحْبُوسَاتٌ قُصِرَ طَرْفُهُنَّ وَأَنْفُسُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ قَاصِرَاتٌ لَا يَبْغِينَ غَيْرَ أَزْوَاجِهِنَّ .
مولانا داود راز
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «حور» کے معنی کالی آنکھوں والی اور مجاہد نے کہا «مقصورات» کے معنی ان کی نگاہ اور جان اپنے شوہروں پر رکی ہوئی ہو گی ( وہ اپنے خاوندوں کے سوا اور کسی پر آنکھ نہیں ڈالیں گی ) ۔ «قاصرات » کے معنی اپنے خاوند کے سوا اور کسی کی خواہشمند نہ ہو گی ۔ «فى الخيام» کے معنی خیموں میں محفوظ ہوں گی ۔
حدیث نمبر: 4879
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا ، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُونَ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعمران جونی نے بیان کیا ، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں کھوکھلے موتی کا خیمہ ہو گا ، اس کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی اور اس کے ہر کنارے پر مسلمان کی ایک بیوی ہو گی ایک کنارے والی دوسرے کنارے والی کو نہ دیکھ سکے گی ۔
حدیث نمبر: 4880
وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَجَنَّتَانِ مِنْ كَذَا آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ " .
مولانا داود راز
اور مومن ان کے پاس باری باری جائیں گے اور دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں چاندی کی ہوں گی اور ایسے بھی دو باغ ہوں گے جب کے برتن اور تمام دوسری چیزیں سونے کی ہوں گی ۔ جنت عدن والوں کو اللہ پاک کے دیدار میں صرف ایک جلال کی چادر حائل ہو گی جو اس کے ( مبارک ) منہ پر پڑی ہو گی ۔