کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”بلکہ ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ ترین چیز ہے“۔
حدیث نمبر: Q4876
يَعْنِي مِنَ الْمَرَارَةِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «أمر‏» ، «مرارة» سے ہے ۔ جس کے معنی تلخی کے ہیں یعنی قیامت کا دن بہت تلخ ہو گا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4876
حدیث نمبر: 4876
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ ، قَالَ : إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ أَلْعَبُ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ سورة القمر آية 46 " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے یوسف بن ماہک نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ جس وقت آیت «بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر‏» ” لیکن ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ چیز ہے “ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں نازل ہوئی تو میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4876
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4877
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ : "أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ أَبَدًا " ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِّرْعِ ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ : " سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ { 45 } بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ { 46 } سورة القمر آية 45-46 " .
مولانا داود راز
´مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے ، کہا ان سے خالد بن مہران حذاء نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے موقع پر میدان میں ایک خیمے میں یہ دعا کر رہے تھے کہ ” اے اللہ ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں ۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے کہ ( مسلمانوں کو فنا کر دے ) تو آج کے بعد پھر کبھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی ۔ “ اور اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا : بس یا رسول اللہ ! آپ اپنے رب سے خوب الحاح و زاری کے ساتھ دعا کر چکے ہیں ۔ نبی کریم اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے ۔ آپ باہر تشریف لائے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر * بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر‏» یعنی ” عنقریب کافروں کی یہ جماعت ہار جائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے ۔ لیکن ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت ہی کڑوی چیز ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4877
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة