کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”اتنا فاصلہ رہ گیا تھا جتنا کمان سے چلہ (یعنی تانت) میں ہوتا ہے“۔
حدیث نمبر: 4856
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِرًّا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى { 9 } فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى { 10 } سورة النجم آية 9-10 ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ : " أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، ان سے عبدالوحد بن زیاد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا ، کہا کہ` میں نے زر بن حبیش سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى‏» یعنی ” صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا بلکہ اور بھی کم ۔ پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی جو کچھ بھی نازل کیا “ کے متعلق بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4856
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة