حدیث نمبر: Q4845-2
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : لَا تُقَدِّمُوا : لَا تَفْتَاتُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِهِ ، امْتَحَنَ : أَخْلَصَ ، وَلَا تَنَابَزُوا : يُدْعَى بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ ، يَلِتْكُمْ : يَنْقُصْكُمْ أَلَتْنَا نَقَصْنَا .
مولانا داود راز
مجاہد نے کہا «لا تقدموا» کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بڑھ کر باتیں نہ کرو ۔ ( بلکہ ادب سے «قال الله وقال الرسول» سنا کرو ) یہاں تک کہ جو حکم اللہ کو دینا ہے وہ اپنے رسول کی زبان سے تم کو پہنچائے ۔ «امتحن» کا معنی صاف کیا ، پرکھ لیا ۔ «لا تنابزوا بالالقاب» کا معنی یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد پھر اس کو کافر ، یہودی یا عیسائی کہہ کر نہ پکارو ۔ «لا يلتكم» تمہارا ثواب کچھ کم نہیں کرے گا سورۃ الطور میں «وما ألتنا» اس لیے ہے کہ ہم نے ان کے عمل کا ثواب کچھ کم نہیں کیا ۔