حدیث نمبر: Q4818
وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {عَقِيمًا} لاَ تَلِدُ. {رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا} الْقُرْآنُ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: {يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ} نَسْلٌ بَعْدَ نَسْلٍ {لاَ حُجَّةَ بَيْنَنَا} لاَ خُصُومَةَ. {طَرْفٍ خَفِيٍّ} ذَلِيلٍ. وَقَالَ غَيْرُهُ: {فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَى ظَهْرِهِ} يَتَحَرَّكْنَ وَلاَ يَجْرِينَ فِي الْبَحْرِ. {شَرَعُوا} ابْتَدَعُوا.
مولانا داود راز
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عقيما» کے معنی بانجھ منقول ہیں ۔ «روحا من أمرنا» میں «روح» سے قرآن مجید مراد ہے ۔ اور مجاہد نے کہا «يذرؤكم فيه» کا مطلب یہ ہے ایک نسل کے بعد دوسری نسل پھیلاتا رہے گا ۔ «لا حجة بيننا» یعنی اب ہم میں اور تم میں کوئی جھگڑا نہیں رہا ۔ «طرف خفي» کمزور کی نگاہ سے ، دزدیدہ نظر سے ۔ اوروں نے کہا «فيظللن رواكد على ظهره» کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مقام پر موجوں کے تھپیڑوں سے ہلتی رہیں نہ آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں ۔ «شرعوا» نیا دین نکالا ۔