کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ الصافات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4804
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ : مِنْ كُلِّ مَكَانٍ ، وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ : يُرْمَوْنَ ، وَاصِبٌ : دَائِمٌ لَازِبٌ لَازِمٌ ، تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ : يَعْنِي الْحَقَّ الْكُفَّارُ تَقُولُهُ لِلشَّيْطَانِ ، غَوْلٌ : وَجَعُ بَطْنٍ ، يُنْزَفُونَ : لَا تَذْهَبُ عُقُولُهُمْ ، قَرِينٌ : شَيْطَانٌ ، يُهْرَعُونَ : كَهَيْئَةِ الْهَرْوَلَةِ ، يَزِفُّونَ : النَّسَلَانُ فِي الْمَشْيِ ، وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا : قَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ الْمَلَائِكَةُ بَنَاتُ اللَّهِ ، وَأُمَّهَاتُهُمْ بَنَاتُ سَرَوَاتِ الْجِنِّ ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ : سَتُحْضَرُ لِلْحِسَابِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَنَحْنُ الصَّافُّونَ : الْمَلَائِكَةُ ، صِرَاطِ الْجَحِيمِ : سَوَاءِ الْجَحِيمِ وَوَسَطِ الْجَحِيمِ ، لَشَوْبًا : يُخْلَطُ طَعَامُهُمْ وَيُسَاطُ بِالْحَمِيمِ ، مَدْحُورًا : مَطْرُودًا ، بَيْضٌ مَكْنُونٌ : اللُّؤْلُؤُ الْمَكْنُونُ ، وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ : يُذْكَرُ بِخَيْرٍ ، وَيُقَالُ : يَسْتَسْخِرُونَ : يَسْخَرُونَ ، بَعْلًا : رَبًّا.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا ( سورۃ سبا میں جو ہے ) «ويقذفون بالغيب من مكان بعيد‏» اس کا مطلب یہ ہے کہ دور ہی سے غیب کے گولے پھینکتے رہتے ہیں ۔ اور «يقذفون من كل جانب‏» کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں پر ہر طرف سے مار پڑتی ہے ۔ «ولهم عذاب واصب‏» یعنی ہمیشہ کا عذاب ( یا سخت عذاب ) ۔ «تأتوننا عن اليمين‏» کا مطلب یہ ہے کہ کافر شیطانوں سے کہیں گے تم حق بات کی طرف سے ہمارے پاس آتے تھے ۔ «غول‏» کا معنی پیٹ کا درد ( یا سر کا درد ) ۔ «ولا هم ينزفون‏» اور نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا ۔ «قرين‏» شیطان ۔ «يهرعون‏» دوڑائے جاتے ہیں ۔ «يزفون‏» نزدیک نزدیک پاؤں رکھ کر دوڑ رہے ہیں ۔ «وبين الجنة نسبا‏» قریش کے کافر فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور ان کی مائیں سردار جنوں کی بیٹیوں ( پریوں ) کو قرار دیتے تھے ۔ «ولقد علمت الجنة إنهم لمحضرون‏» یعنی جنوں کو معلوم ہے کہ ان کو قیامت کے دن حساب کے لیے حاضر ہونا پڑے گا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لنحن الصافون‏» یہ فرشتوں کا قول ہے ۔ «صراط الجحيم‏» ، «سواء الجحيم» دونوں کے معنی «وسط الجحيم‏» کے ہیں یعنی جہنم کے بیچوں بیچ ۔ «لشوبا‏ من حمیم» یعنی ان کے کھانے میں گرم کھولتے ہوئے پانی کی ملونی کی جائے گی ۔ «مدحورا‏» دھتکارا ہوا ۔ «بيض مكنون‏» بندھے ہوئے موتی ۔ «وتركنا عليه في الآخرين‏» اس کا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں باقی رکھا ۔ «يستسخرون‏» ٹھٹھا کرتے ہیں ۔ «بعلا‏» کے معنی رب ، معبود ( یمن والوں کی لغت میں ) ۔ «اسباب» سے آسمان مراد ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4804