کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4802
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَتَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ سورة يس آية 38 " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` آفتاب غروب ہونے کے وقت میں مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوذر ! تمہیں معلوم ہے یہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم» کہ ” اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے ، یہ زبردست علم والے کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے ۔ “
حدیث نمبر: 4803
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38 ، قَالَ : " مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها» ” اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے ۔ “ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے ۔