حدیث نمبر: Q4772-2
وَالْخَبْءُ مَا خَبَأْتَ ، لَا قِبَلَ : لَا طَاقَةَ الصَّرْحُ كُلُّ مِلَاطٍ اتُّخِذَ مِنَ الْقَوَارِيرِ ، وَالصَّرْحُ الْقَصْرُ ، وَجَمَاعَتُهُ صُرُوحٌ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَلَهَا عَرْشٌ : سَرِيرٌ ، كَرِيمٌ : حُسْنُ الصَّنْعَةِ ، وَغَلَاءُ الثَّمَنِ يَأْتُونِي ، مُسْلِمِينَ : طَائِعِينَ ، رَدِفَ : اقْتَرَبَ ، جَامِدَةً : قَائِمَةً ، أَوْزِعْنِي : اجْعَلْنِي ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : نَكِّرُوا : غَيِّرُوا ، وَأُوتِينَا الْعِلْمَ ، يَقُولُهُ سُلَيْمَانُ : الصَّرْحُ بِرْكَةُ مَاءٍ ضَرَبَ عَلَيْهَا سُلَيْمَانُ قَوَارِيرَ أَلْبَسَهَا إِيَّاهُ .
مولانا داود راز
«الخبء» پوشیدہ ، چھپی چیز ۔ «لا قبل» طاقت نہیں ۔ «الصرح» کے معنی کانچ کا گارا اور «صرح» محل کو بھی کہتے ہیں اس کی جمع «صروح.» ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «ولها عرش» کا یہ معنی ہے کہ اس کا تخت نہایت عمدہ ، اچھی کاریگری کا ہے ، جو بیش قیمت ہے ۔ «مسلمين» یعنی تابعدار ہو کر ۔ «ردف» نزدیک آ پہنچا ۔ «جامدة» اپنی جگہ پر قائم ۔ «أوزعني» مجھ کو کر دے ۔ اور مجاہد نے کہا «نكروا» کا معنی اس کا روپ بدل ڈالو ۔ «وأوتينا العلم» یہ سلیمان علیہ السلام کا مقولہ ہے ۔ «صرح» پانی کا ایک حوض تھا سلیمان علیہ السلام نے اسے شیشوں سے ڈھانک دیا تھا دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پانی بھرا ہوا ہے ۔