حدیث نمبر: Q4768
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : تَعْبَثُونَ : تَبْنُونَ ، هَضِيمٌ : يَتَفَتَّتُ إِذَا مُسَّ مُسَحَّرِينَ الْمَسْحُورِينَ لَيْكَةُ ، وَالْأَيْكَةُ جَمْعُ أَيْكَةٍ وَهِيَ جَمْعُ شَجَرٍ ، يَوْمِ الظُّلَّةِ : إِظْلَالُ الْعَذَابِ إِيَّاهُمْ ، مَوْزُونٍ : مَعْلُومٍ ، كَالطَّوْدِ : كَالْجَبَلِ ، وَقَالَ غَيْرُهُ لَشِرْذِمَةٌ : الشِّرْذِمَةُ طَائِفَةٌ قَلِيلَةٌ ، فِي السَّاجِدِينَ : الْمُصَلِّينَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ : كَأَنَّكُمُ الرِّيعُ الْأَيْفَاعُ مِنَ الْأَرْضِ ، وَجَمْعُهُ رِيَعَةٌ وَأَرْيَاعٌ وَاحِدُهُ رِيعَةٌ ، مَصَانِعَ : كُلُّ بِنَاءٍ فَهُوَ مَصْنَعَةٌ ، فَرِهِينَ : مَرِحِينَ فَارِهِينَ بِمَعْنَاهُ ، وَيُقَالُ : فَارِهِينَ حَاذِقِينَ ، تَعْثَوْا : هُوَ أَشَدُّ الْفَسَادِ عَاثَ يَعِيثُ عَيْثًا الْجِبِلَّةَ الْخَلْقُ جُبِلَ خُلِقَ ، وَمِنْهُ جُبُلًا وَجِبِلًا وَجُبْلًا يَعْنِي الْخَلْقَ ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ.
مولانا داود راز
مجاہد نے کہا لفظ «تعبثون» کا معنی بناتے ہو ۔ «هضيم» وہ چیز جو چھونے سے ریزہ ریزہ ہو جائے ۔ «مسحرين» کا معنی جادو کئے گئے ۔ «ليكة» اور «لأيكة» جمع ہے «أيكة» کی اور لفظ «أيكة» صحیح ہے ۔ «شجر» یعنی درخت ۔ «يوم الظلة» یعنی وہ دن جس میں عذاب نے ان پر سایہ کیا تھا ۔ «موزون» کا معنی معلوم ۔ «كالطود» یعنی پہاڑ کی طرح ۔ «الشرذمة» یعنی چھوٹا گروہ ۔ «في الساجدين» یعنی نمازیوں میں ۔ ابن عباس نے کہا «لعلكم تخلدون» کا معنی یہ ہے کہ جیسے ہمیشہ دنیا میں رہو گے ۔ «ريع» بلند زمین جیسے ٹیلہ «ريع» مفرد ہے اس کی جمع «ريعة» اور «أرياع» آتی ہے ۔ «مصانع» ہر عمارت کو کہتے ہیں ( یا اونچے اونچے محلوں کو ) ۔ «فرهين» کا معنی اتراتے ہوئے خوش و خرم ۔ «فاتحه» فارھین کا بھی یہی معنی ہے ۔ بعضوں نے کہا «فارهين» کا معنی کاریگر ہوشیار تجربہ کار ۔ «تعثوا» جیسے «عاث» ، «يعيث » ، «عيثا» ، «عيث» کہتے ہیں سخت فساد کرنے کو ( دھند مچانا ) ۔ «تعثوا» کا وہی معنی ہے یعنی سخت فساد نہ کرو ۔ «خلقت جبل» یعنی پیدا کیا گیا ہے ۔ اسی سے «جبلا» اور «جبلا» اور «جبلا» نکلا ہے یعنی «خلقت» ۔