کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ الفرقان کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4760
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَبَاءً مَنْثُورًا : مَا تَسْفِي بِهِ الرِّيحُ ، مَدَّ الظِّلَّ : مَا بَيْنَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ ، سَاكِنًا : دَائِمًا ، عَلَيْهِ دَلِيلًا : طُلُوعُ الشَّمْسِ ، خِلْفَةً : مَنْ فَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ عَمَلٌ أَدْرَكَهُ بِالنَّهَارِ ، أَوْ فَاتَهُ بِالنَّهَارِ أَدْرَكَهُ بِاللَّيْلِ ، وَقَالَ الْحَسَنُ : هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا : وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَمَا شَيْءٌ أَقَرَّ لِعَيْنِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْ يَرَى حَبِيبَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ثُبُورًا : وَيْلًا ، وَقَالَ غَيْرُهُ : السَّعِيرُ مُذَكَّرٌ وَالتَّسَعُّرُ وَالْاضْطِرَامُ التَّوَقُّدُ الشَّدِيدُ ، تُمْلَى عَلَيْهِ : تُقْرَأُ عَلَيْهِ مِنْ أَمْلَيْتُ وَأَمْلَلْتُ الرَّسُّ الْمَعْدِنُ جَمْعُهُ رِسَاسٌ ، مَا يَعْبَأُ ، يُقَالُ : مَا عَبَأْتُ بِهِ شَيْئًا لَا يُعْتَدُّ بِهِ ، غَرَامًا : هَلَاكًا ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : وَعَتَوْا : طَغَوْا ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : عَاتِيَةٍ : عَتَتْ عَنِ الْخَزَّانِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «هباء منثورا‏» کے معنی جو چیز ہوا اڑا کر لائے ( گرد و غبار وغیرہ ) ۔ «مد الظل‏» سے وہ وقت مراد ہے جو طلوع صبح سے سورج نکلنے تک ہوتا ہے ۔ «ساكنا‏» کا معنی ہمیشہ ۔ «عليه دليلا‏» میں «دليل» سے سورج کا نکلنا مراد ہے ۔ «خلفة‏» سے یہ مطلب ہے کہ رات کا جو کام نہ ہو سکے وہ دن کو پورا کر سکتا ہے ، دن کا جو کام نہ ہو سکے وہ رات کو پورا کر سکتا ہے ۔ اور امام حسن بصری نے کہا «قرة اعین» کا مطلب یہ ہے کہ ہماری بیویوں کو اور اولاد کو خدا پرست ، اپنا تابعدار بن دے ۔ مومن کی آنکھ کی ٹھنڈک اس سے زیادہ کسی بات میں نہیں ہوتی کہ اس کا محبوب اللہ کی عبادت میں مصروف ہو ۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «ثبورا‏» کے معنی ہلاکت خرابی ۔ اوروں نے کہا «سعير» کا لفظ مذکر ہے ، یہ «تسعر» سے نکلا ہے ، «تسعر» اور «اضطرام» آگ کے خوب سلگنے کو کہتے ہیں ۔ «تملى عليه‏» اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں یہ «أمليت» اور «أمللت» سے نکلا ہے ۔ «الرس» ، «كان» کو کہتے ہیں اس کی جمع «رساس» آتی ہے ۔ «كان» بمعنی «معدن ما يعبأ‏» عرب لوگ کہتے ہیں «ما عبأت به شيئا» یعنی میں نے اس کی کچھ پروا نہیں کی ۔ «غراما‏» کے معنی ہلاکت اور مجاہد نے کہا «عتوا‏» کا معنی شرارت کے ہیں اور سفیان بن عیینہ نے کہا «عاتية‏» کا معنی یہ ہے کہ اس نے خزانہ دار فرشتوں کا کہنا نہ سنا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4760