کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا“۔
حدیث نمبر: 4743
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ كَانَ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ : هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 ، نَزَلَتْ فِي حَمْزَةَ وَصَاحِبَيْهِ ، وَعُتْبَةَ وَصَاحِبَيْهِ يَوْمَ بَرَزُوا فِي يَوْمِ بَدْرٍ ". رَوَاهُ سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، وَقَالَ عُثْمَانُ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَوْلَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوہاشم نے خبر دی ، انہیں ابومجلز نے ، انہیں قیس بن عباد نے اور انہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ قسم کھا کر بیان کرتے تھے کہ` یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم‏» ” یہ دو فریق ہیں ، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ “ حمزہ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے ) اور ( مشرکین کی طرف سے ) عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں ( شیبہ اور ولید بن عتبہ ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جب انہوں نے بدر کی لڑائی میں میدان میں آ کر مقابلہ کی دعوت دی تھی ۔ اس روایت کو سفیان نے ابوہاشم سے اور عثمان نے جریر سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ابوہاشم سے اور انہوں نے ابومجلز سے اسی طرح نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4743
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4744
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ لِلْخُصُومَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ قَيْسٌ : وَفِيهِمْ نَزَلَتْ : هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 ، قَالَ : هُمُ الَّذِينَ بَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلِيٌّ ، وَحَمْزَةُ ، وَعُبَيْدَةُ ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا ، انہوں نے ابومجلز سے سن کر کہا کہ` یہ خود ان ( ابومجلز ) کا قول ہے ، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پہلا شخص ہوں گا ۔ جو رحمن کے حضور میں قیامت کے دن اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیے چہار زانو بیٹھوں گا ۔ قیس نے کہا کہ آپ ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم‏» کہ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا “ بیان کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوت مقابلہ دی تھی ۔ یعنی ( مسلمانوں کی طرف سے ) علی ، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نے اور ( کفار کی طرف سے ) شیبہ بن ربیعہ ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ نے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4744
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة