حدیث نمبر: Q4741
وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : الْمُخْبِتِينَ : الْمُطْمَئِنِّينَ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فِي إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ ، فِي أُمْنِيَّتِهِ : إِذَا حَدَّثَ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي حَدِيثِهِ ، فَيُبْطِلُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ، وَيُحْكِمُ آيَاتِهِ ، وَيُقَالُ أُمْنِيَّتُهُ قِرَاءَتُهُ ، إِلَّا أَمَانِيَّ : يَقْرَءُونَ ، وَلَا يَكْتُبُونَ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : مَشِيدٌ بِالْقَصَّةِ جِصٌّ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : يَسْطُونَ : يَفْرُطُونَ مِنَ السَّطْوَةِ ، وَيُقَالُ : يَسْطُونَ يَبْطِشُونَ ، وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ : أُلْهِمُوا ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ : إِلَى الْقُرْآنِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ الْإِسْلَامِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِسَبَبٍ : بِحَبْلٍ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ثَانِيَ عِطْفِهِ مُسْتَكْبِرٌ ، تَذْهَلُ : تُشْغَلُ "
مولانا داود راز
سفیان بن عیینہ نے کہا «المخبتين» کا معنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے ( یا ، اللہ کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والے ) اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «في أمنيته» کی تفسیر میں کہا جب پیغمبر کلام کرتا ہے ( اللہ کے حکم سناتا ہے ) تو شیطان اس کی بات میں اپنی طرف سے ( پیغمبر کی آواز بنا کر ) کچھ ملا دیتا ہے ۔ پھر اللہ پاک شیطان کا ملایا ہوا مٹا دیتا ہے اور اپنی سچی آیتوں کو قائم رکھتا ہے ۔ بعضوں نے کہا «أمنيته» سے پیغمبر کی قرآت مراد ہے ۔ «إلا أماني» جو سورۃ البقرہ میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مگر آرزوئیں ۔ اور مجاہد نے کہا ( طبری نے اس کو وصل کیا ) ۔ «مشيد» کے معنی چونہ گچ کئے گئے ۔ اوروں نے کہا «يسطون» کا معنی یہ ہے زیادتی کرتے ہیں یہ لفظ «سطوة» سے نکلا ہے ۔ بعضوں نے کہا «يسطون» کا معنی سخت پکڑتے ہیں ۔ «وهدوا إلى الطيب من القول» یعنی اچھی بات کا ان کو الہام کیا گیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «بسبب» کا معنی رسی جو چھت تک لگی ہو ۔ «تذهل» کا معنی غافل ہو جائے ۔