کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ کھٰیٰعص کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4730
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرِ اللَّهُ يَقُولُهُ وَهُمُ الْيَوْمَ لَا يَسْمَعُونَ وَلَا يُبْصِرُونَ ، فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ، يَعْنِي قَوْلَهُ : أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ : الْكُفَّارُ يَوْمَئِذٍ أَسْمَعُ شَيْءٍ وَأَبْصَرُهُ ، لَأَرْجُمَنَّكَ : لَأَشْتِمَنَّكَ ، وَرِئْيًا : مَنْظَرًا ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : تَؤُزُّهُمْ أَزًّا : تُزْعِجُهُمْ إِلَى الْمَعَاصِي إِزْعَاجًا ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : إِدًّا : عِوَجًا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وِرْدًا : عِطَاشًا ، أَثَاثًا : مَالًا ، إِدًّا : قَوْلًا عَظِيمًا ، رِكْزًا : صَوْتًا ، غَيًّا : خُسْرَانًا ، بُكِيًّا : جَمَاعَةُ بَاكٍ ، صِلِيًّا : صَلِيَ يَصْلَى ، نَدِيًّا : وَالنَّادِي مَجْلِسًا.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أبصر بهم وأسمع» یہ اللہ فرماتا ہے آج کے دن ( یعنی دنیا میں ) نہ تو کافر سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں بلکہ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ «أسمع بهم وأبصر‏» یعنی کافر قیامت کے دن خوب سنتے اور خوب دیکھتے ہوں گے ( مگر اس وقت کا سننا دیکھنا کچھ فائدہ نہ دے گا ) ۔ «لأرجمنك‏» میں تجھ پر گالیوں کا پتھراؤ کروں گا ۔ لفظ «رئيا‏» کے معنی منظر ، دکھاوا اور ابووائل شقیق بن سلمہ نے کہا مریم علیہا السلام جانتی تھیں کہ جو پرہیزگار ہوتا ہے وہ صاحب عقل ہوتا ہے ۔ اسی لیے انہوں نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں اگر تو پرہیزگار ہے ۔ اور سفیان بن عیینہ نے کہا «تؤزهم أزا‏» کا معنی یہ ہے کہ شیطان کافروں کو گناہوں کی طرف گھسیٹتے ہیں ۔ مجاہد نے کہا «إدا‏» کے معنی کج اور ٹیڑھی ، غلط بات ( یا کج اور ٹیڑھی باتیں ) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «وردا‏» کے معنی پیاسے کے ہیں اور «أثاثا‏» کے معنی مال اسباب ۔ «إدا‏» بڑی بات ۔ «ركزا‏» ہلکی ، پست آواز ۔ «غيا‏» نقصان ، ٹوٹا ۔ «بكيا‏» ، «باكى» کی جمع ہے یعنی رونے والے ۔ «صليا‏» مصدر ہے ۔ «صلي» ، «يصلى » باب «سمع» ، «يسمع» سے یعنی جلنا ۔ «ندي‏» اور «لنادي» دونوں کے معنی مجلس کے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4730