کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت «ولقد كرمنا بني آدم» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4711
كَرَّمْنَا : وَأَكْرَمْنَا وَاحِدٌ ، ضِعْفَ الْحَيَاةِ ، عَذَابَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ عَذَابَ الْمَمَاتِ خِلَافَكَ ، وَخَلْفَكَ سَوَاءٌ وَنَأَى ، تَبَاعَدَ شَاكِلَتِهِ ، نَاحِيَتِهِ ، وَهِيَ مِنْ شَكْلِهِ صَرَّفْنَا ، وَجَّهْنَا قَبِيلًا ، مُعَايَنَةً وَمُقَابَلَةً ، وَقِيلَ الْقَابِلَةُ لِأَنَّهَا مُقَابِلَتُهَا ، وَتَقْبَلُ وَلَدَهَا خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ، أَنْفَقَ الرَّجُلُ أَمْلَقَ وَنَفِقَ الشَّيْءُ ذَهَبَ قَتُورًا ، مُقَتِّرًا لِلْأَذْقَانِ ، مُجْتَمَعُ اللَّحْيَيْنِ وَالْوَاحِدُ ذَقَنٌ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَوْفُورًا ، وَافِرًا تَبِيعًا ، ثَائِرًا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَصِيرًا خَبَتْ ، طَفِئَتْ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تُبَذِّرْ ، لَا تُنْفِقْ فِي الْبَاطِلِ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ ، رِزْقٍ مَثْبُورًا ، مَلْعُونًا لَا تَقْفُ ، لَا تَقُلْ فَجَاسُوا ، تَيَمَّمُوا يُزْجِي الْفُلْكَ يُجْرِي الْفُلْكَ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ ، لِلْوُجُوهِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «كرمنا‏» اور «أكرمنا» دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔ «ضعف الحياة‏» زندگی کا عذاب ۔ «ضعف الممات» موت کا عذاب ۔ «خلافك‏» اور «خلفك» ( دونوں قرآتیں ہیں ) دونوں کے ایک معنی ہیں یعنی تمہارے بعد ۔ «نأى‏» کے معنی دور ہوا ۔ «شاكلته‏» اپنے راستے پر ( یا اپنی زینت پر ) یہ «شكل» سے نکلا ہے یعنی جوڑ اور شبیہ ۔ «صرفنا‏» سامنے لائے بیان کئے ۔ «قبيلا‏» آنکھوں کے سامنے روبرو بعضوں نے کہا یہ «قابلة» سے نکلا ہے جس کے معنی دائی ، جنانے والی کے ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی جناتے وقت عورت کے مقابل ہوتی ہے اس کا بچہ قبول کرتی ہے یعنی سنبھالتی ہے ۔ «الإنفاق‏» کے معنی مفلس ہو جانا ۔ کہتے ہیں «أنفق الرجل» جب وہ مفلس ہو جائے اور «نفق الشىء» جب کوئی چیز تمام ہو جائے ۔ «قتورا‏» کے معنی بخیل ۔ «أذقان‏» ، «ذقن‏» کی جمع ہے جہاں دونوں جبڑے ملتے ہیں یعنی ٹھڈی ۔ مجاہد نے کہا «موفورا‏ وافرا» کے معنی میں ہے ( یعنی پورا ) «تبيعا‏» بدلہ لینے والا ۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لا تبذر» کا معنی یہ ہے کہ ناجائز کاموں میں اپنا پیسہ مت خرچ کر «ابتغاء رحمة‏» روزی کی تلاش میں «مثبورا‏» کے معنی ملعون کے ہیں ۔ «لا تقف‏» مت کہہ «فجاسوا‏» قصد کیا ۔ «يزجي الفلك» کے معنی چلاتا ہے ۔ «يخرون للأذقان‏» کے معنی منہ کے بل گر پڑتے ہیں ( سجدہ کرتے ہیں ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4711